Pakistan's Urdu Forum For IT Education
 
<
Go Back   World's Favorite Urdu Forum for Free IT Education..ITQalam.Com.The World of Knowledge > Urdu Poetry and Urdu Adab Zone > Qalam Urdu Library > Other Urdu Books
Forgot Password? Join Us!

Whats New in iTQalam

Other Urdu Books Share here other Urdu Books which are not according to Urdu Novels / Afsanay such as Safarnamay, Poetry Books, Tabsarajat etc...

Reply
 
Thread Tools Display Modes
  #1  
Old 02-06-2013, 12:26 PM
ghazanfar kazmi ghazanfar kazmi is offline
Junior Member
 
Join Date: Feb 2013
Posts: 2
Points: 36, Level: 1
Points: 36, Level: 1 Points: 36, Level: 1 Points: 36, Level: 1
Activity: 0.2%
Activity: 0.2% Activity: 0.2% Activity: 0.2%
Thanks: 0
Thanked 0 Times in 0 Posts
Rep Power: 0
ghazanfar kazmi is on a distinguished road
Rose چار دیویوں کا قصہ ۔۔ از غضنفر

چار دیویوں کا قصہ
غضنفر کاظمی
رات کسی کی گناہوںبھری زندگی کی طرح تاریک تھی، ہندی میں اس کو اماوس کی رات کہا جاتا ہے جب آخری تاریخوں کی رات ہوتی ہے، آسمان پر چاند کہیں نظر نہیں آتا، تاریکی اتنی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا، ستم بالائے ستم کہ ایسی رات میں آسمان پر تاریک بادل چھائے ہوں، موسلا دھار بارش برس رہی ہو اور آدھی رات کا وقت ہو تو ایسے میں کچھ بھی نظر نہیں آتا، اس دن بستی کا ایسا ہی موسم تھا جب ایک ستم رسیدہ نوجوان لڑکی پھٹے پرانے لباس میں ٹھوکریں کھاتی لڑکھڑاتی آگے بڑھتی جارہی تھی۔ راستہ کیچڑ سے بھرا ہوا تھا جو اس کے لباس ، پیروں اور ٹانگوں کو ویسے ہی گندا کررہا تھا جیسے حالات نے اس کی زندگی کو کیا ہوا تھا۔ اس کے چلنے کے انداز سے ایسا محسوس ہوتا تھا گویا بہت دور سے چلتی آرہی ہے اور حد سے زیادہ تھکی ہوئی ہے، وہ ڈولتی ڈالتی کسی کٹی ہوئی پتنگ کی مانند آگے بڑھتی چلی جارہی تھی .... حتیٰ کہ بستی سے باہر نکل گئی، اب دائیں جانب جنگل کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، وہ آگے بڑھتی گئی۔ اتنے میں بجلی اتنی زور سے کڑکی کہ وہ لڑکھڑا گئی لیکن بجلی کی چمک میں اس کو جنگل میں ایک خود رو راستہ نظر آیا اور وہ گھبرائے ہوئے انداز میں پیچھے دیکھتی ہوئی اس راستے پر چل دی۔ نہ جانے کتنی دیر چلتی رہی، اور پھر ایک جگہ رک گئی اب اس کے لئے آگے بڑھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اچانک اس کے بدن میں خوف کی عجیب سے سنسناہٹ دوڑ گئی، کوئی زنانہ آواز اس سے پوچھ رہی تھی، کہ ” کون ہو اور کہاں جارہی ہو آگے راستہ نہیں ہے“۔ وہ خاموش کھڑی رہی ، اسی آواز نے پھر اپنا سوال دہرایا لیکن وہ اس بار بھی خاموش ہی رہی، پھر اس کو آواز سنائی دی کوئی لڑکی کسی دوسری سے چراغ روشن کرنے کو کہہ رہی تھی، پھر تھوڑی دیر بعد وہاں ایک ٹمٹماتے چراغ کی مدھم سی روشنی پھیل گئی اس نے دیکھا کہ اس کے برابر ایک جھونپڑی ہے جہاں تین لڑکیاں پہلے سے بیٹھی ہوئی ہیں، ان میں سے ایک لڑکی نے اس کو جھونپڑی میں آنے کی دعوت دی .... لڑکیاں دیکھ کر اس کو یک گ±ونہ تسکین ہوئی اور خوف میں کمی آگئی پھر جب دوبارہ اس کو اندر آنے کی دعوت ملی تو وہ شرماتی اور جھجکتی جھونپڑی میں چلی گئی اور ان کے برابر ہی ایک جگہ بیٹھ گئی۔
وہ ڈری ڈری سہمی سہمی اس انداز میں بیٹھی تھی جیسے کوئی کبوتری بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرکے خوفزدہ بیٹھی ہو، آخر کچھ دیر کے بعد اس کے ساتھ والی لڑکی بولی ،
” تم کون ہو؟ کیا نام ہے؟ کہاں سے آرہی ہو؟ “
اس نے گھبراکر اس لڑکی کی جانب دیکھا اور پھر پہلے تھوک نگل کر اپنا گلا تر کیا ، خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور بولی،
” جی میرا نام فرشتہ ہے ، میں قبائلی علاقے کے زرغام خان کی بیٹی ہوں، اور اپنی جان بچانے کے لئے فرار ہوکر یہاں تک پہنچی ہوں“....”تمہاری جان کو کس سے خطرہ ہے پوری بات بتا?“ اسی لڑکی نے پھر سوال کیا۔ اس پر فرشتہ چند لمحے سوچتی رہی پھر گویا ہوئی،
”میرے والداپنے علاقے کے بہت بڑے رئیس تھے، ہمارے کئی پہاڑ تھے جن سے زمرد، یاقوت، مرجان اور تانبا نکلتا تھا، اس کے ساتھ ہی پہاڑوں میں میلوں پھیلے ہوئے جنگلات تھے جہاں چوبیس گھنٹے مزدور لکڑی کاٹتے رہتے بابا اس لکڑی کو شہر میں فروخت کردیتے تھے۔میری پیدائش پر بابا نے بہت خوشی منائی۔ میں نازو نعم میں پروان چڑھنے لگی۔ میرے بابا کی خواہش تھی کہ مجھے دنیا کے تمام علوم سکھائیں، جب میں چار برس کی تھی تو انہوں نے میرے لئے ایک ایسی استاد کا انتظام کیا جنہوں نے مجھے انگلش، فرنچ اور دنیا کی دیگر زبانیں سکھائیں، پھر میرے والد نے مجھے میری سیکھی ہوئی زبانوں میں شائع شدہ کتابیں لاکر دیں ، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چین سے مارشل آرٹ کے ایک ماہر کو بلا کر مجھے مارشل آرٹ کی تربیت بھی دلانا شروع کی۔اس کے ساتھ میں گھڑ سواری، نیزہ بازی اور چھلانگیں لگانے میں بھی ماہر ہوگئی۔ جب میں چودہ برس کی ہوئی تو میری بدقسمتی کہ میرے بابا اور ماما گاڑی کے ایک حادثہ میں ہلاک ہوگئے اور بابا کی جاگیر پر میرے جرائم پیشہ چچا نے قبضہ کرلیا۔ چچا نے حویلی پر قبضہ کرتے ہی مجھے گھر سے نکال کر جنگل میں لکڑیاں کاٹنے پر لگادیا، وہ چاہتے تھے کہ میں زندگی کے کسی بھی حصے میں ان سے اپنی جاگیر کی واپسی کا تقاضا نہ کروں۔ اب جنگل میں بابا کے زمانے کے تمام مزدوروں کو نکال کرچچا نے اپنے مزدور بھرتی کرلئے تھے۔ چچا کی ہدایت پر سپروائزر نے مجھ سے دیگر مزدوروں سے زیادہ کام لینا شروع کردیا لیکن میں مارشل آرٹ، گھڑ سواری اور نیزہ بازی کی تربیت کی بنا پر جتنا بھی کام دیا جاتا وہ کرلیتی، مجھے سخت سردی میں بھی گرم لباس نہ دیا جاتا، چچا کی خواہش تھی کہ میں کام کرتے کرتے زندگی کی بازی ہار جاﺅںلیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میں چار سال تک جنگل میں کام کرتی رہی، اس مشقت سے میرا جسم فولادی ہوگیا اور اس دوران مجھ میں یہ تبدیلی آئی کہ مجھ سے جو بھی ذرا اونچے لہجے میں بات کرتا میں اس کو ختم کردیتی۔ ایک بار چچا نے سازش کے ذریعے اپنے چار کارندوں کو مجھے اغواکرکے آبرو ریزی کا فرض سونپا، وہ چاروں رات کی تاریکی میں جنگل میں میری جھونپڑی میں آئے لیکن اتفاق سے اس وقت میں بیدار تھی میں نے ان کو دیکھتے ہی کھڑے ہوکر ان پر حملہ کردیا اور چند ہی منٹ میں ان چاروں کو ختم کرکے پہاڑ سے نیچے پھینک دیا۔ بعد میں بھی چچا کے کارندے مجھے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن جو بھی آیا وہ خود جان کی بازی ہار گیا۔
جب میں اٹھارہ برس کی ہوئی تو میرے چچا نے ہمارے ایک خاندانی ملازم کے نوجوان بیٹے گل پندرہ خان سے میری شادی کا منصوبہ بنایا اور اس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ مجھ سے شادی کرنے کے بعد مجھے اس علاقے سے دور لے جائے ورنہ وہ مجھ سمیت اس کو اور اس کے پورے خاندان کو ختم کردیں گے۔ وہ ملازم نمک حلال تھا اس نے شادی پر ہاں کردی پھر میری شادی گل پندرہ خان سے ہوگئی وہ مجھے شادی کے فوری بعد اس علاقے سے لے کر شہر آگئے اور شہر آکر میرے قدموں میں گر کر اس گستاخی کی معافی مانگی کہ مجھ سے شادی کرنے پر حامی بھری تھی اور پھر انہوں نے مجھے طلاق دے کر کہا کہ وہ مجھے ظالم چچا کے چنگل سے نجات دلانا چاہتے تھے اب میں آزاد ہوں جہاں چاہوں چلی جاﺅں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مجھے پچاس ہزار روپے بھی دئیے اور بتایا کہ یہ روپے ان کو چچا نے دئیے تھے تاکہ مجھے میرے علاقے سے کہیں دور لے جاکر نئے سرے سے زندگی شروع کرسکیں مجھے اپنے ملازم کی دیانت داری اور وفا داری پر بہت پیار آیا اور میں نے پچاس میں سے پچیس ہزار ان کو دیتے ہوئے کہا کہ اب ان کے لئے واپس علاقے میں جانا ممکن نہیں ہے لہذا وہ یہ رقم لے کر کہیں اور نئے سرے سے زندگی شروع کردیں۔ انہوں نے میری بات نہیں مانی اور یہ کہتے ہوئے رقم لینے اور کہیں جانے سے انکار کردیا کہ وہ مجھے تنہا کہیں نہیں جانے دیں گے بلکہ میرے محافظ کے طور پر میرے ساتھ ہی رہیں گے۔ مجھے ان کی ضد کے سامنے خاموش ہونا پڑا۔ پھر ہم وہاں سے بس میں بیٹھ کرلاہور آگئے لیکن لاہور میں رہنا بھی ہمارے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا تھا کیونکہ چچا اکثر کاروباری سلسلے میں لاہور اور کراچی آتے جاتے رہتے تھے بہرحال ہم نے لاہور کے ریلوے سٹیشن پر کھانا کھایا اور پھر وہاں سے قصور چلے گئے لیکن شہر میں رہنا میں نے مناسب نہیں سمجھا اور قصور سے باہر نکل کر بھارت کی سرحد کے قریب ایک جھونپڑ پٹی میں اپنی جھونپڑی بنا لی اور اس میں رہنا شروع کردیا۔ وہاں کے مکینوں نے ہمیں بہت عزت دی اور خوشی سے اپنے ساتھ قبول کرلیا۔ اب ہم سکون کی زندگی بسر کررہے تھے۔ ایک روز رات کا آخری پہرتھا مجھے نیند نہیں آرہی تھی نہ جانے کیوں رہ رہ کر ماما اور بابا کی یاد ستا رہی تھی۔ جب میرا دل گھبرانے لگا تو میں جھونپڑی سے باہر نکل آئی، باہر گ±ھور اندھیرا تھا میں خاموشی سے چلتی ایک درخت کے نیچے کھڑی ہوکر آسمان کی جانب دیکھنے اور اپنی قسمت پر غور کرنے لگی کہ قسمت نے مجھے کیا سے کیا بنادیا تھا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ درخت کے عقب سے مجھے سرگوشیوں کی آوازیں سنائی دیں میں پنجوں کے بل آہستہ روی سے چلتی اس جگہ کے قریب ہوگئی جہاں سے سرگوشیوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ ایک آواز کہہ رہی تھی کہ ” تم فکر نہ کرو یہ رپورٹ پوری ذمہ داری سے مارشل ایکس تک پہنچادو اس کے بدلے میں تمہارے حساب میں دس لاکھ روپے جمع کردئیے جائیں گے۔ لیکن اس بات کا خیال رکھنا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے علم میں یہ کاغذات نہیں آنے چاہئیںاگر انہیں بھنک بھی مل گئی تو وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری ساری محنت پر بھی پانی پھر جائے گا، اگر سرحد پر سخت نگرانی نہ ہوتی تو میں خود یہ کاغذات بھارت لے جاتا لیکن اب یہ کام مارشل ایکس ہی کر سکتا ہے“۔
”مارشل ایکس کہاں اور کیسے ملے گا؟“ دوسرے شخص نے سوال کیا۔
”تم ٹرپل تھری پر کال کرکے کہنا کہ مارشل ایکس کے لئے س±پر اے کا پیغام ہے، پھر جیسی ہدایات ملیں ان کے مطابق عمل کرنا.... بات سمجھ میں آگئی؟“
” جی ہاں میں سمجھ گیااب آپ بے فکر رہیں میں یہ ان تک پہنچادوں گا“ دوسری آواز نے کہا۔
ان کی باتیں سن کر میرے کان کھڑے ہوگئے، پاکستان کی سرزمین میری ماں تھی اور اب دشمن میری ماں کے خلاف سازشیں کر رہے تھے۔ میں خاموش اپنی جگہ کھڑی رہی۔ جب وہ سائے ایک دوسرے سے الگ ہوئے تو ان میں سے ایک بھارت کی سرحد کی جانب بڑھ گیا اور دوسرا شہر قصور کی جانب میں اس کے پیچھے چل پڑی اور ایک سنسان مقام پر عقب سے اس پر حملہ کرکے ختم کردیا اور اس کی تلاشی لی تو ایک لفافہ ملا جو سِیل کیا گیا تھا اور اس کی موٹائی بتارہی تھی کہ اس میں کافی کاغذات ہیں۔ میں نے لفافہ سنبھال کر اس کی لاش کو وہیں ایک گڑھے میں پھینک دیا اور خود واپس اپنی جھونپڑی میں آکر اپنی جگہ لیٹ گئی۔
صبح کو میں نے گ±ل پندرہ خان سے کہا کہ مجھے خفیہ ایجنسی کے دفتر جانا ہے ، پہلے تو اس نے وجہ پوچھی لیکن پھر شائد اس کو اپنی حیثیت کا خیال آگیا کہ اب وہ میرا باڈی گارڈ ہے اور اسے وجہ پوچھنے کا حق نہیں ہے۔ لہذا وہ مجھے لے کر لاہور آیا اورہم خفیہ ایجنسی کے دفتر چلے گئے۔ وہاں میری ملاقات میجر زبیر نامی افسر سے ہوئی، میں نے ان کو لفافہ دیتے ہوئے پوری بات بتادی، وہ مجھے وہیں رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے لفافہ لے کر اندر کی جانب چلے گئے اور تقریباً دوگھنٹے بعد واپس آئے تو ان کے چہرے پر تفکر کی پرچھائیاں صاف نظر آرہی تھیں۔
دوسری قسط
کرسی پر بیٹھ کر چند لمحے وہ مجھے دیکھتے رہے پھر مجھ سے پوچھا کہ میں اپنے وطن کی خاطر کیا کرسکتی ہوں ؟ میں نے جواب دیا کہ وطن کی خاطر تو جان بھی حاضر ہے تو انہوں نے مجھے واپس جانے کا کہتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر ان کو میری ضرورت محسوس ہوئی تو مجھ سے امام نام کا ایک شخص ملاقات کرے گا وہ جو ہدایت دے مجھے اس پر عمل کرنا چاہئے، میں نے حامی بھرلی اور پھر واپس اپنی جھونپڑی میں آگئی۔
دو روز گزر گئے لیکن مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا لیکن تیسرے روز میں جھونپڑی کے باہر دھوپ میں بیٹھی تھی کہ دور سے ایک جیپ آتی نظر آئی، میں اس کی جانب دیکھنے لگی تھوڑی دیر بعد جیپ میرے پاس آکر رکی اور اس میں سے ایک شخص باہر نکلا جو کافی جاذب نظر تھا اور چال ڈھال سے فوجی محسوس ہورہا تھااس نے میرے پاس آکر مجھ سے فرشتہ کے بارے میں سوال کیا تو میں نے کہا کہ میں ہی ہوںیہ سن کر اس نے کہا کہ وہ امام ہے اورمیرے لئے میجر زبیر کا پیغام ہے، آپ ان سے اسی وقت ملیں، میں آپ کولینے آیا ہوں۔ یہ سن کر میں نے اس سے چند منٹ کی مہلت چاہی اور جھونپڑی میں جاکر لباس تبدیل کیا اور پھر گل پندرہ خان کو لے کر اس جیپ میں بیٹھ گئی ہمارے بیٹھتے ہی جیپ چل پڑی۔
راستہ خاموشی سے کٹا اور تقریباً ایک گھنٹے بعد میں میجر زبیر کے سامنے بیٹھی تھی۔ میجر نے مجھے کہا کہ اب میں اپنی رہائش تبدیل کرلوں، میرے یہ کہنے پر کہ میں شہر میں نہیں رہ سکتی مجھے جان کا خطرہ ہے، میجر نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ میری حفاظت کا پورا بندو بست کریں گے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے سرکاری رہائش ملے گی تو میں مان گئی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہ کاغذات جو میں نے ان کو دئیے تھے پاکستان کے دفاع کے لحاظ سے بہت اہم تھے اور اگر وہ دشمنوں کے ہاتھ لگ جاتے تو ہماری دفاعی تنصیبات اور ہوائی اڈے سب خطرے میں پڑ جاتے۔ یہ بتاتے ہوئے انہوں نے مجھے ویسا ہی لفافہ دیا جیسا میں نے ان کو دیا تھا اور لفافہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کو مارشل ایکس تک پہنچانا اب میری ذمہ داری ہے۔ یہ سن کر میں کچھ دیر خاموش رہی پھر کہا کہ مارشل ایکس کو کسی اسے فون سے کال کروں گی جس نمبر کی شناخت نہ ہوسکے کہ کس کا ہے۔ اس پر میجر صاحب نے کہا کہ اس بارے میں فکر نہ کروں ان کے پاس ایسے بہت سے نمبر ہیں جن کا کہیں ریکارڈ نہیں ہے اور پھر وہ مجھے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے سِیٹ سے اٹھ گئے میں بھی سِیٹ سے اٹھ کر ان کے ساتھ چلی، وہ کمرے سے باہر نکل کر ایک راہ داری میں چلتے ہوئے تہہ خانے میں ایک کمرے میں لے گئے، جو کسی کا آفس تھا وہاں میز پر دو ٹیلی فون رکھے تھے انہوں نے مجھ سے فون کرنے کو کہا، میں نے رسیور اٹھا کرٹرپل تھری پر کال کی، میرے نمبر ملاتے ہی میجر صاحب نے دوسرے فون کا رسیور اٹھا کرکان سے لگالیا، پہلے کچھ دیر تو رسیور میں ہوا کی سائیں سائیں گونجتی رہی پھر گھنٹی بجنے لگی اور دوسری ہی گھنٹی پر کسی نے دوسری جانب سے فون اٹھالیا اور مجھے کسی لڑکی کی نازک سی آواز سنائی دی.... ”ہیلو ہ±و از دیئر“ (کون ہے )، میں نے یہ سن کر وہی جملہ دہرادیا کہ ”مارشل ایکس“ کے لئے ”سپر اے“ کا پیغام ہے، یہ سن کر دوسری جانب سے مجھے ہولڈ کرنے کو کہا اور پھر خاموشی چھاگئی تھوڑی دیر بعد دوسری جانب سے مردانہ آواز آئی، ” ہیلو تم کون ہو“.... اس سوال پر میں چکرا گئی .... میجر صاحب جو دوسرے فون پر ہماری گفتگو سن رہے تھے انہوں نے مجھے کچھ اشارہ کیا لیکن میں سمجھی نہیں کہ وہ کیا ہدایت دے رہے ہیں اس وقت اتنی مہلت نہیں تھی کہ میں سوچتی یا میجر صاحب سے وضاحت پوچھتی، میں نے اپنی سوچ کے مطابق جواب دیا کہ ”سپر ایکس کا حوالہ کافی نہیں ہے کیا؟“ اس پر دوسری جانب سے ایک ایڈریس بتاتے ہوئے پیغام وہاں پہنچانے کی ہدایت دے دی گئی، ا س کے بعد سلسلہ منقطع ہوگیا میں نے بھی رسیور رکھ دیا اور میجر صاحب نے رسیور رکھتے ہوئے مجھے توصیفی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا: ” ویری گڈ فرشتہ تمہارا ذہن ہنگامی حالت میں بہت تیز چلتا ہے تم نے زبردست جواب دیا“ میں نے اس تعریف پر مسکراکر شکریہ ادا کیا۔ پھر میجر صاحب نے کہا،” اب تم وہاں اکیلی نہیں جا?گی بلکہ میرے کچھ مسلح افراد تمہارے ساتھ جائیں گے“ یہ سن کر میں نے کہا، ” سر مسلح افراد کو دیکھ کر وہ لوگ ہوشیار نہ ہوجائیں اگر آپ کو مجھ پر اعتماد ہے تو میرے خیال میںبہتر یہی ہے کہ میں گل پندرہ خان کے ساتھ اکیلی ہی جاﺅں“۔ میجر صاحب نے کہا،” اعتماد تو تم پر مجھے اتنا ہے جتنا خود پر کیونکہ تم نے ابھی تک جو کچھ بھی کیا ہے وہ صرف وطن کی محبت میں کیا ہے اور ہمارے لئے وطن سے محبت کرنے والے ہی با اعتماد ہوتے ہیں، ٹھیک ہے تم جیسا چاہتی ہوویسے ہی کرو البتہ تم جا?گی ہماری گاڑی میں اس میں بہت سی خصوصیات ہیں اور ڈرائیور بھی ہمارا ہی ہوگا“ میں اس پر راضی ہوگئی تو وہ مجھے پھر اپنے دفتر میں لے گئے اور فون پر کسی کو گاڑی کے بارے میں ہدایت دی اور پھر اپنے اردلی کو چائے لانے کو کہا۔ جب تک ہم نے چائے پی اس وقت تک ان کو گاڑی کی تیاری کی خبر بھی مل گئی اور وہ مجھے دفتر کے باہر پارکنگ میں لائے جہاں ایک سیاہ رنگ کی سیڈان کھڑی تھی، پھر میجر صاحب نے خوشگوار انداز میں کامیابی کی دعائیں دیتے ہوئے ہمیں رخصت کیا اور میں گل پندرہ خان کے ساتھ گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور گاڑی وہاں سے روانہ ہوگئی۔ ہمیں دیا جانے والا ایڈریس سیالکوٹ سے آگے ایک گاﺅں کا تھا۔ جب ہم مطلوبہ ایڈریس پر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ وہ تو ایک پیر صاحب کا ڈیرہ تھا جہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ جب میں گاڑی سے اتری تو ایک شخص نے آگے بڑھ کر ہمارے آنے کا سبب پوچھا، پہلے تو میں خاموش رہی پھر آہستہ سے سرگوشی کے انداز میں ”مارشل ایکس“ کہا تو وہ مودبانہ انداز میں ہمیں ڈیرے کے اندر ایک کمرے میں لے گیا اور کہا کہ پیر صاحب ذرا مریدوں سے فارغ ہوجائیں تو آتے ہیں یہ کہہ کر وہ چلا گیا ہم وہیں بیٹھے رہے تھوڑی دیر میں ہمارے لئے کھانا آگیا، کھانے میں ب±ھنے ہوئے تیتر اور تنوری روٹی تھی۔ ہم نے شکم سیر ہوکر کھانا کھایا، تیتر کا گوشت بہت ہی لذیز تھا، گل پندرہ خان تو ویسے بھی خوش خوراک تھا لیکن اس وقت میں نے بھی ضرورت سے زیادہ ہی کھالیا۔ کھانے کے بعد مجھ پر س±ستی طاری ہونے لگی، آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں میں نے گ±ل کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بھی بند ہورہی تھیں اور پھر اگلے ہی لمحے میں جہاں بیٹھی تھی وہیں گر کر بے ہوش ہوگئی۔

میں کتنی دیر بعد ہوش میں آئی اس کا اندازہ تو کوئی بھی بے ہوش ہونے والا شخص نہیں لگا سکتا، بہرحال ہوش میں آنے کے بعد کچھ دیر تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ میں کہاں اور کس حال میں ہوں پھر آہستہ آہستہ حواس بحال ہونے لگے تو احساس ہوا کہ میرے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں جبکہ پا?ں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا میں کسی کمرے میں تھی لیکن یہ وہ کمرہ نہیں تھا جس میں بیٹھ کر ہم نے کھانا کھایا تھا، کھانے کا خیال آتے ہی مجھے یاد آیا کہ میرے ساتھ گل پندرہ خان بھی تھا تب میں نے کمرے میں نظر دوڑائی تو مجھے گل خان بھی ایک کونے میں پڑا نظر آیا میری طرح اس کے بھی ہاتھ پا?ں پ±شت پر بندھے تھے۔ میں کچھ دیر اسی طرح لیٹی اپنے حواس بحال کرتی رہی۔ بندھے ہاتھوں کو پیچھے سے سامنے لانا میرے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا مارشل آرٹ کی بنا پر مجھے اپنے بدن کو مختلف انداز میں موڑنا آگیا تھا میں نے لیٹے لیٹے پورے جسم کا وزن اپنے کاندھوں پر ڈالا اور کمر اور کولہوں کو زمین سے تھوڑا سا اونچا کیا اور بندھے ہاتھوں کو آہستہ آہستہ کھسکاتے ہوئے ٹانگوں سے گزارکر سامنے لے کے آئی، اس کام میں کافی طاقت صَرف ہوئی، میں چند لمحے لیٹی سانس لیتی رہی پھر دانتوں سے ہاتھوں پر بندھی رسی کھولنے کی کوشش کرتی رہی۔ تقریباً بیس منٹ بعد میں اپنی کوشش میں کامیاب ہوئی، مسلسل بندھے رہنے کی وجہ سے خون کی گردش رکی ہوئی تھی جس بنا پر ہاتھوں میں سنسناہٹ ہورہی تھی میں کچھ دیر ہاتھوں کو ایک دوسرے سے ملتی رہی جب خون کی گردش بحال ہوئی اور ہاتھ کام کرنے کے قابل ہوئے تو پا?ں کی رسی کھولی اور پھر جاکر گل خان کو بھی کھولا۔ کچھ دیر ہم وہیں خاموش بیٹھے رہے پھر گل خان نے اٹھ کر اس دروازے کی مضبوطی کو آزمایا جو اس کمرے میں واحد نکاس کا راستہ تھا اور بند تھا، وہ پیچھے ہٹا تو میں نے سوالیہ نظروں سے اس کا جانب دیکھا اس نے سر ہلاکر انکار کرتے ہوئے کہا کہ دروازہ بہت مضبوط ہے اور اگر ہم اس کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو دشمن باخبر ہوجائیں گے۔ پھر ہم دروازے کے دائیں بائیں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے کہ کوئی آئے تو اس پر قابو پاکر یہاں سے نکلنے کی سبیل کی جائے ہمیں سہولت یہ حاصل تھی کہ آنے والا اس خیال سے بے فکری سے آتا کہ ہم دونوں بندھے ہوئے ہیں۔ کافی دیر گزر گئی لیکن کوئی نہیں آیا۔ کمرے میں بنے ہوئے واحد چھوٹے سے روشن دان سے ہمیں احساس ہوگیا کہ اب رات کی تاریکی چھانے لگی ہے۔
.................................................................................................... ............................................................................
قسط 3

جب ہم بیٹھے بیٹھے تھک گئے، تو میں نے اٹھتے ہوئے گل خان سے کہا کہ میرے خیال میں وہ ہمیں ابھی تک بے ہوش ہی سمجھ رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ بے ہوشی کی جو دوا ہمیں دی گئی تھی وہ زیادہ طاقت کی ہو لیکن چونکہ مشقت کی وجہ سے ہمارے بدن سخت ہوچکے ہیں اس لئے ہم جلد ہوش میںآگئے، پھر اس سے قبل کہ گل خان مجھے کوئی جواب دیتا ہم دونوں اپنی جگہ اچھل گئے، اچانک باہر سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے لگیں، فائرنگ اچانک شروع ہوئی تھی اور ایسا محسوس ہورہا تھا گویا دو گروہ آپس میں ٹکرا گئے ہوں، ابھی تک ہم اسی لئے خاموش بیٹھے کسی کی آمد کا انتظار کررہے تھے کہ اگر دروازہ توڑنے کی کوشش کی تو شور کی آواز دشمنوں کو ہماری اس کوشش کی خبر دے دے گی لیکن فائرنگ کے شور نے ہمارا کام آسان بنادیا اور ہم دونوں نے مل کر دروازے کو اپنی کِکوں کا ہدف بنالیا اور تقریباً پانچ سات کِکوں میں دروازہ کھل گیا۔ دروازہ کھلتے ہی ہم دونوں ایک دم زمین پر گر گئے اور رینگتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے، باہر تاریکی چھائی ہوئی تھی، ہم کمرے سے نکل کر کچھ دیر اپنی جگہ لیٹے ماحول کا جائزہ لیتے رہے پھر ہم نے کلاشنکوفوں اور رائفلوں کی نالوں سے نکلتے ہوئے گولیوں کے شعلے دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ ہمارے سامنے کس کس سمت میں لوگ بیٹھے کسی کی طرف گولیاں برسارہے ہیں۔ میں نے گل خان کے کان کے قریب منہہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان مسلح افراد میں سے کسی کو قابو میں کرکے باقی لوگوں کو گولیاں ماردینی چاہئیں، میری بات سن کر گل خان نے پوچھا ، ” لیکن ہمیں کیا معلوم کہ ان میں ہمارا دوست کون ہے اوردشمن کون اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان کی آپس کی دشمنی کا معاملہ ہو ہم سے ان کا کوئی تعلق ہی نہ ہو“
یہ سن کر میں نے کہا کہ جو لوگ ہمارے سامنے سے گولیاں برسارہے ہیں ان کا تعلق تو اسی عمارت سے ہے اور یہ تو پکے ہمارے دشمن ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ان کا مخالف کون ہے تو وہ کوئی بھی ہو ہمارا تو دوست ہی ہوگا نہ یعنی ہم تو اس کے دشمن کے دشمن ہیں۔ میری بات گل خان کی سمجھ میں آگئی۔ پھر ہم زمین پر رینگتے ہوئے اس جانب بڑھنے لگے جہاں سے ہمیں گولیوں کی چمک نظر آرہی تھی اس کے قریب پہنچتے ہی میں اپنی جگہ سے اچھلی اور اس شخص کی پشت پر جا پڑی جو ایک ستون کے پیچھے الٹا لیٹا مخالف سمت میں گولیاں برسا رہا تھا، میں نے اس کی پشت پر جاتے ہی کھڑی ہتھیلی کا ایک وار اس کی گردن پر کیا اور اس کی گردن ایک جانب ڈھلک گئی، پھر میں نے فورا ہی اس کی کلاشنکوف اور پاس پڑے فالتو راﺅنڈ ہاتھ میں لئے اور مڑ کر گل پندرہ خان کی جانب دیکھا اس وقت تک وہ بھی ایک شخص کو ٹھکانے لگا کر اس کی کلاشنکوف پر قبضہ جما چکا تھا، پھر میں نے ستون کی آڑ میں ہوکر اپنے ارد گرد گولیاں برسانے والوں پر فائرنگ شروع کردی وہ چونکہ اس سمت سے خود کو محفوظ سمجھے ہوئے تھے لہذا ادھر سے لا پرواہ تھے ہم نے چند ہی منٹ میں سب کوختم کردیا۔ جب ادھر سے فائرنگ کا سلسلہ تھما تودوسری جانب سے بھی گولیوں کی بوچھار رک گئی اور تھوڑی دیر بعد ایک گاڑی کی آواز آئی ساتھ ہی لاﺅڈسپیکر پر ایک آواز ابھری ” فرشتہ اگر تم میری آواز سن رہی ہو تو آجاﺅ میں امام ہوں“ .... اس آواز کو سنتے ہی میں اپنی جگہ کھڑی ہوگئی اور مڑ کر گل خان کو بھی اشارہ کیا وہ میرے اشارے پر کھڑا ہوگیا اور پھر مجھے آگے بڑھنے کو کہا میں نے آگے بڑھنے سے پہلے بلند آواز سے کہا ،” امام .... میں آرہی ہوں“ .... اور پھر آگے قدم بڑھائے ۔ میری آواز پر وہ گاڑی بھی تھوڑی سی آگے بڑھ کر میرے قریب آکر رک گئی اور پچلی نشست کا دروازہ کھلا میںاندر داخل ہوگئی اور کہا کہ گل خان ابھی باہر ہی ہے، میری بات سن کر گاڑی میں سے اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے کسی شخص نے ایک بار پھر سپیکر پر اعلان کیا کہ ” گل خان تم پچھلے ٹرک میں بیٹھ جاﺅ“....اس کے ساتھ ہی ڈرائیور نے ہماری گاڑی گھما کر واپسی کے راستے پر ڈال دی اور پھر چند منٹ بعد ایک جگہ گاڑی رکی جہاں کئی ٹرک کھڑے ہوئے تھے، ہماری گاڑی ان ٹرکوں کے عقب میں روکی گئی تھی، پھر گاڑی کے اندر کی لائٹ روشن ہوئی تو میں نے دیکھا کہ میرے برابر میجر زبیر بیٹھے تھے، ان کو دیکھ کر میں نے حیرت سے کہا کہ ” سر آپ ؟ “.... میرے سوال پر وہ مسکراتے ہوئے بولے، ” ہاں میں.... ہم جب کسی کو اپنے مشن پر روانہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس کی حفاظت کا پورا پورا انتظام کرتے ہیں، میں نے تمہارے عقب میں اپنے کچھ جوان خفیہ طور پر روانہ کئے تھے، دوپہر کو جب تم اور گل خان گاڑی سے اتر کر عمارت کے اندر گئے تو میرے آدمی دور سے تم کو چیک کررہے تھے پھر تھوڑی دیر بعد تم کو اور گل خان کو چند افراد ایسے پکڑ کر لارہے تھے جیسے تم اتنے نشے میں ہو کہ اپنے قدموں پر خود چلنے کے قابل نہیں ، یہ دیکھ کر میرے جوانوں نے فوری طور پر مجھے اطلاع دی لیکن اس وقت وہاں پر مریدوں کا رش اتنا زیادہ تھا کہ کوئی کارروائی ممکن نہیں تھی لہذا میں نے اپنے آدمیوں کو انتظار کرنے اور ایک دو افراد کو مریدوں کے بھیس میں اندر داخل ہوکر سُدھ بُدھ لینے کا حکم دیا۔ جن سے مجھے وہاں بھاری اسلحے کی موجودگی کی اطلاع ملی، تب میں نے مزید فورس تیار کی اور یہاں آکر رات کے اندھیرے کا انتظار کرنا پڑا کیونکہ بابا سائیں جن کا یہ ڈیرہ ہے یہاں کے بہت معروف پیر صاحب ہیں اور دیہاتی لوگ ان کے لئے جان دینے کو بھی تیار رہتے ہیں، بس پھر جیسے ہی رات کی تاریکی چھائی ہم نے پیش قدمی شروع کی لیکن وہ لوگ پہلے سے تیار تھے انہوں نے ہمیں دیکھتے ہی گوکلیاں برسانی شروع کردیں ہمیں بھی اپنے دفاع میں فائرنگ کرنا پڑی لیکن تھوڑی دیر بعد معلوم نہیں ان میں کیا اختلاف پیدا ہوگیا کہ وہ آپس میں ہی لڑنے لگے، اور ہمیں پیش قدمی کا موقع مل گیا۔.... میجر صاحب کی بات سن کر مجھے ہنسی آگئی اور میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اختلاف ان میں نہیں ہوا تھا بلکہ گولیوں کے شور میں ہمیں دروازہ توڑکر باہر آنے کا موقع ہاتھ لگ گیا تھا پھر ہم نے باہر آکر ان پر حملہ شروع کردیا تھا۔ اتنا کہہ کر میں نے میجر صاحب کو پوری بات بتائی کہ ہم کس طرح ان کی قید میں گئے اور کیسے آزادی حاصل کی۔
اس دوران میجر صاحب کے آدمیوں نے جاکر اندر کی تلاشی لینا شروع کردی تھی وہاں سے کافی آدمیوںکو گرفتار بھی کیا گیا لیکن وہ بے چارے بے قصورتھے ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ پیر بابا کے مرید یا معتقد تھے اور ان کی محبت میں وہاں آئے تھے۔ ان ہی کی زبانی یہ بھی معلوم ہوا کہ پیر بابا کبھی کسی کے سامنے نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ اذان سنتے ہی اپنے ہجرے میں چلے جاتے ان کا کہنا تھا کہ اللہ کی عبادت اور اس سے راز و نیاز کا جو لطف خلوت میں آتا ہے وہ جلوت میں کہاں۔ یہ سن کر میں نے میجر صاحب سے کہا کہ سر وہ تو شائد ہندو ہوگا اس کو نماز آتی ہی نہیں ہوگی بس اس نے یہ بہانہ بنا دیا تاکہ مریدوں پر مزید اثر ہوسکے، میری بات پر میجر صاحب نے اثبات میں سر ہلادیا.... اسی دوران ہمیں ایک شخص نے آکر اطلاع دی کہ میجر صاحب کا اسسٹنٹ ان کو بلارہا ہے وہاں ایک سرنگ نظر آرہی ہے میجر صاحب اس سرنگ کا خود معائنہ کرلیں تو بہتر ہے، یہ سن کر میجر صاحب نے ڈرائیور کو گاڑی واپس ڈیرے کی جانب لے جانے کاحکم دیا اور پھر تھوڑی ہی دیر میں ہم پیربابا کے خاص ہجرے میں کھڑے تھے جہاں ایک طرف فرش میں خلاءنظر آرہا تھا، میجر صاحب کے اسسٹنٹ نے بتایا کہ اس خلاءپر پیر بابا کا بیڈ لگا ہوا تھا لیکن جب وہ یہاں داخل ہوئے تو بیڈ پیچھے ہٹا ہوا تھا اور یہ خلاءکھلی تھی۔ میجر صاحب نے میری جانب دیکھا تو میں نے کہا کہ سر اگر آپ اجازت دیں تو میں جاکردیکھوں؟ میجر صاحب نے منع کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں اس کا اختتام کہاں پر ہو اور وہاں کون کون موجود ہو تمہارا تنہا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے کہا ”سر ایسے مہم تنہا ہی سر کی جاسکتی ہے زیادہ رش اور شور اکثر بنتے کام بگاڑ دیتا ہے، آپ نے ایک بار مجھ پر اعتماد کرکے دیکھ لیا کہ میں حالات سے تنہا نمٹ سکتی ہوں ایک بار اور اعتماد کرکے دیکھ لیں اور اگر اس کوشش میں مجھے شہادت نصیب بھی ہوگئی تو یہ تو میرے لئے فخر کی بات ہوگی نا اور سر ویسے بھی زیادہ سے زیادہ یہ سرنگ بھارت میں ہی لے جائے گی اور اگر اس کا اختتام بھارت میں ہوتا ہے تو اب تک وہاں پر یہ تباہ کی جاچکی ہوگی وہ ایسا کوئی راستہ نہیں چھوڑیں گے کہ ہم ان تک پہنچ جائیں، اس صورت میں زیادہ سے زیادہ میں بھارت کے بارڈر تک ہی جاسکوں گی آگے راستہ مسدود ہوگا تو میں واپس آجاﺅں گی، لیکن اگر ہماری خوش قسمتی سے ابھی آگے کا راستہ کھلا ہوا تو آپ دیکھنا کہ میں ان کو اس سازش کا کیسا جواب دیتی ہوں کہ ان کی آئندہ نسلیں بھی کہا کریں گی کہ پاکستان میں موت کا فرشتہ ایک لڑکی تھی“....
میری بات سن کر میجر صاحب نے پہلی مرتبہ مجھے سینے سے لگاکر پیشانی چومتے ہوئے کہا، ” بیٹی میں تمہیں پہاڑوں کی بیٹی سمجھتا تھا لیکن تم تو دختر پاکستان ہو، جس قوم میں تم سی بیٹیاں ہوں کس ظالم کی جرا¿ت ہوسکتی کہ اس قوم کا بال بھی باکا کرسکے۔“ پھر انہوں نے مجھے ایک ٹارچ، کلاشنکوف اور ایک موذر دیتے ہوئے کہا کہ اگر اپنے لئے تھوڑا سا بھی خطرہ محسوس کروں تو بے دریغ فائر کردوں اس میں ذرا سی بھی تاخیر نہ کروں ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آگے میں تنہا جاﺅں گی لیکن میرے پیچھے کسی غیر معمولی واقعہ پر مدد کے لئے کچھ لوگ موجود ہوں گے جو مجھے خطرے میں دیکھ کر فوری طور پر میری مدد کریں گے۔ اس پر میں نے کہا کہ ”سر ان کو میرے اشارے پر حرکت میں آنے کی ہدایت دیں۔ جب میں یہ دیکھوں گی کہ اب بے بس ہوگئی ہوں تب میں ان کی مدد حاصل کروں گی ویسے میری کوشش یہی ہوگی کہ گولی کے بجائے باتوں سے مسئلہ حل کروں“.... میری بات سن کر میجر صاحب تھوڑی دیر کچھ سوچتے رہے پھر اشارہ طے کیا کہ جب میں دایاں ہاتھ فضا میں لہراﺅں تو ان کے آدمی فوری طور پرمیری مدد کر پہنچ جائیں گے۔ اشارہ مقرر ہونے کے بعد میں نے کلاشنکوف شانے سے لٹکائی اور موذر ہاتھ میں لے کر میجر صاحب پر الوداعی نظر ڈالتے ہوئے خلاءمیں اترگئی۔ خلاءمیں گہری تاریکی تھی، میں نے ٹارچ روشن کرکے ایک نظر وہاں تک ڈالی جہاں تک ٹارچ کی روشنی میں نظر نے کام کیا، یہ تقریباً چار فٹ چوڑی سرنگ تھی جو کافی دور تک سیدھی جارہی تھی اور آگے کہیں جاکر وہ دائیں یا بائیں مُڑ رہی تھی میں نے راستے کا اندازہ کر تے ہوئے ٹارچ بجھائی اور آگے بڑھنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد میں اس مقام پر پہنچ گئی جہاں سرنگ دائیںجانب مُڑ رہی تھی، میں راستے کے ساتھ ساتھ دائیں جانب مُڑ گئی لیکن مڑتے ہی میری گردن پر کسی پستول کی ٹھنڈی نال لگ گئی اور کسی نے سرگوشی کے انداز میں مجھے اسلحہ نیچے پھینک کر ہاتھ اوپر اٹھانے کو کہا....
جاری ہے

قسط 4
میرا ذہن ایک دم چکرا کر رہ گیا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اچانک اس قسم کی افتاد آن پڑے گی۔ اسی دوران اس شخص نے میری گردن پر پستول کی نال کا دبا? بڑھاتے ہوئے سخت لہجے میں کہا کہ کیاتم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے ، اپنا اسلحہ زمین پر ڈال کر ہاتھ اوپر اٹھادو۔ میرا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا میں نے میجر زبیر کے دئیے ہوئے موذر کو بائیں ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا جبکہ کلاشنکوف دائیں کندھے پر لٹکائی ہوئی تھی اس کی بات سن کر میں نے دائیں کندھے سے اس انداز میں کلاشنکوف اتاری کہ اس کی نظر میرے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پستول پر نہ پڑ سکے ویسے بھی وہاں گ±ھپ اندھیرا تھا اور اتنی دیر تک اندھیرے میں رہنے کی بنا پر میری آنکھیں جو دیکھنے کے قابل ہوئی تھیں ظاہر ہے کہ وہ بھی اتنا ہی دیکھ رہا ہوگا۔ میں نے کلاشنکوف اتار کر جھک کر زمین پر رکھی اور پھر سیدھا ہوتے ہوئے اپنے ہاتھ اوپر اٹھانے لگی۔ ہاتھ اوپر کرتے وقت میں نے اس بات کا خیال رکھا کہ میرے بائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے پستول کا ر±خ اس کی جانب رہے پھر جیسے ہی مجھے اندازہ ہوا کہ اب اس کا دل میرے نشانے پر ہے میں نے ٹریگر دبا دیا اور ساتھ ہی خود کو زمین پر گرادیا۔ سرنگ میں فائر کی آواز گونجی اور مجھ پر پستول تاننے والا خاموشی سے زمین پر گر گیا۔ میں چند لمحے اپنی جگہ خاموشی سے لیٹی رہی مجھے یہ بھی فکر تھی کہ میجر زبیر نے جن لوگوں کو میری حفاظت کی ذمہ داری سونپی تھی وہ بھی پریشانی کے عالم میں پیش قدمی کر رہے ہوں گے، ساتھ ہی مجھے یہ بھی فکر تھی کہ اس کی طرح دشمنوں کا کوئی اور آدمی بھی موجود نہ ہو.... لیکن جب فائر ہونے کے کچھ دیر تک دشمنوں کی جانب سے کسی قسم کی نقل و حرکت نظر نہیں آئی تو میں بلند آواز سے میجر زبیر کے آدمیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں فرشتہ خیریت سے ہوں وہ لوگ اطمینان سے آگے بڑھیں اس کے ساتھ ہی میں نے کھڑے ہوکر ٹارچ کی روشنی اس جانب ڈالی جدھر سے میجر زبیر کے محافظین زمین پر رینگتے ہوئے ہماری سمت میں بڑھ رہے تھے، میری جانب سے ٹارچ روشن ہونے او ر بات کرنے پر وہ اٹھ کر تیزی سے آگے آئے اور زمین پر گرے ہوئے شخص کو دیکھا لیکن وہ مر چکا تھا۔ اس پر ان میں سے دو افراد اس کی لاش اٹھا کر چلے گئے اور باقی کے افراد میرے پاس رہ گئے۔ ان افراد کے انچارج کا کہنا تھا کہ اب وہ مجھے تنہا آگے نہیں بڑھنے دے گا بلکہ وہ سب میرے ساتھ ہی چلیں گے تاکہ اگر آگے اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آئے تو سب مل کر اس کا مقابلہ کرسکیں۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ اگر اس سرنگ کے آخر میں ہمیں چیک کرلیا گیا اور کسی نے سرنگ کو دھماکے سے اڑادیا تو میرے وطن کے اتنے جیالے میری وجہ سے مارے جائیں گے جبکہ اگر میں اکیلی جاتی ہوں تو صرف میں مروں گی وہ لوگ عقب میں ہوشیار ہوجائیں گے اور پھر کوئی مو ¿ثر کارروائی کرسکیں گے، لیکن انہوں نے میری بات سے اتفاق نہیں کیا اور پھر ہم سب اس انداز میں آگے بڑھنے لگے کہ میں سب سے آگے تھی اور وہ لوگ مجھے سے کچھ فاصلے پر میرے عقب میں آرہے تھے۔ اسی طرح چلتے ہوئے ہم تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں سرنگ ختم ہورہی تھی، وہاں پر سرنگ سے باہر نکلنے کا بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا، میرے محافظوں نے وہاں پر سامنے کی دیوار کو توڑنے کا پروگرام بنایا ان کا خیال تھا کہ جب شروع میں سرنگ میں داخل ہونے کا راستہ موجود تھا تو یقینا باہر نکلنے کا بھی ہوگا۔ میں نے ان کی بات سن کر کہا کہ ان کی بات درست ہے یہاں یقینا باہر نکلنے کا راستہ بھی موجود ہوگالیکن اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ شروع میں سرنگ میں داخل ہونے کا راستہ کھلا رکھنے اور یہاں بند رکھنے میں کیا سازش ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ دشمن میں ہمیں سرنگ میں داخل کرنا تو چاہتا ہو لیکن یہاں سے باہر نکالنا اس کے منصوبے میں شامل نہ ہو۔ اتنا کہہ کر میں نے ان سب کو بھاگنے کا مشورہ دیا اور خود بھی گھوم کر واپسی کے راستے پر بھاگنے لگی۔ان لوگوں کو میرے مشورے سے اتفاق تھا یا اختلاف اس سے قطع نظر وہ چونکہ میری حفاظت کے لئے آئے تھے اس لئے میرے پیچھے ہی وہ بھی بھاگنے لگے۔ ابھی ہم نے با مشکل آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ عقب میں زور دار دھماکے کی آواز آئی، ہم سب فوری طور پر زمین پر گر پڑے اور رینگتے ہوئے دیوار کی جانب بڑھ کر اس کے ساتھ لگ کر لیٹ گئے۔ دھماکے کے بعد سرنگ میں اتنا گردو غبار بھر گیا کہ ہمیں سانس لینے میں بھی دشواری ہونے لگی ، آخر ہم نے اٹھ کر ایک بار پھر نکاسی کے دروازے کی جانب بھاگنا شروع کردیا اور وہاں تک پہنچتے پہنچتے ہماری حالت غیر ہوگئی۔ وہاں میجر زبیر بے چینی سے ہمارا انتظار کررہے تھے کیونکہ انہوں نے گولی چلنے کی آواز بھی سنی تھی اور پھر دھماکے کی آواز بھی، ہمیں زندہ سلامت دیکھ کر انہوں نے اطمینان کی سانس لی اور میرا ہاتھ تھام کر مجھے لے کر دوسرے کمرے میں آگئے جہاں ایک میز اور کچھ کرسیاں رکھی تھیں یہ شائد وہاں قبضہ کرنے کے بعد میجر زبیر کے کارندوں نے لگائی تھیں۔ انہوں نے ایک شخص کو پہلے پانی اور پھر چائے لانے کو کہا، پانی آتے ہی میں نے ایسے پینا شروع کردیا جیسے کئی دنوں کی پیاسی ہوں۔ پانی پینے کے بعد میرے حواس کچھ بحال ہوئے ، اتنی دیر میں چائے آگئی، میں نے بولنا چاہا تو میجر زبیر نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے مجھے روکتے ہوئے بولنے سے منع کیا اور کہا کہ پہلے سکون سے چائے پی? اپنے حواس بحال ہونے دو باقی باتیں بعد میں کریں گے۔ اس پر میں خاموشی سے چائے پینے لگی۔
چائے پینے کے دوران میجر صاحب نے کہا کہ سرنگ میں ہونے والا دھماکہ بہت زور دار تھا اور میں نے تمہیں بات کرنے سے اس لئے روک دیا تھا کہ تمہارے اعصاب متاثر ہوں گے ۔ اب تم ایسے کرو کہ چائے پینے کے بعد باہر جاﺅ وہاں ایک گاڑی میں گل پندرہ خان بیٹھا ہے تم بھی اس کے ساتھ بیٹھ جاﺅ ڈرائیور تمہیں تمہاری سرکاری رہائش گاہ تک لے جائے گا ۔ اب تم آرام کرو یہاں تمہارا کام ختم ہوگیا ہے میں کل شام چار بجے تمہارے پاس آﺅں گا اور تمہیں کسی سی ملاﺅں گا اس کے بعد تمہاری نئی ڈیوٹی شروع ہوجائے گی۔ میں نے یہ سن کر کچھ بولنا چاہا لیکن میجر نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا ، ” بس اب کوئی بات نہیں جو کہا ہے اس پر عمل کرو“ .... یہ سن کر میں خاموشی سے چائے پینے لگی اور چائے ختم کرکے اٹھ کر باہر آئی جہاں سامنے ہی ایک گاڑی میں گل خان ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا میں بھی جاکر پچھلی نشست پر بیٹھ گئی اور میرے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے بغیر کچھ کہے گاڑی چلادی۔
لاہور کینٹ میں اپنی رہائش گاہ تک پہنچتے ہوئے ہمیں صبح ہوگئی، بنگلہ کافی وسیع و عریض تھا، سامنے کے حصے میں بھی ایک لان تھا جس میں گھاس لگی ہوئی تھی اور ساتھ ہی خوبصورت پھول بہار دکھارہے تھے اس کے بعدایک برامدہ اور پھر کمرے تھے، کمروں کے بعد پھر ایک برآمدہ اور اس کے بعد کافی کھلا صحن تھا، میں اور گل خان گھر کا جائزہ لینے کے بعد آرام کرنے چلے گئے ، میں ایک کمرہ اپنے لئے چن کر اس میں سونے چلی گئی جبکہ گل خان نے اپنے لئے ایک کمرہ منتخب کیا اور وہ اس میں سونے چلا گیا، ڈرائیور ہمیں وہاں اتار کر گاڑی واپس لے گیا تھا۔ تھکاوٹ اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ سونے کے بعد ہوش ہی نہیں رہا میری آنکھ کال بیل کی آواز سے کھلی تھوڑی دیر بعد ایک اردلی نے آکر میجر زبیر کی آمد کی اطلاع دی میں فوری طور پر باہر نکلی اور اردلی کی رہنمائی میں ڈرائینگ روم تک گئی جہاں ایک صوفے پر میجر زبیر بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے تیار ہونے کا حکم دیا اور میں سر ہلاتے ہوئے تیار ہونے چلی گئی۔ میرے پاس کپڑے توتھے نہیںلہذا نہا کر تازہ دم ہوئی اور وہی لباس پہن کر میجر صاحب کے سامنے حاضر ہوگئی وہ مجھے لے کر کینٹ ہی کے علاقے میں ایک بنگلے میں گئے وہاں انہوں نے میرا تعارف کسی جنرل اکبر سے کرایا، جنرل صاحب نے مجھے دیکھتے ہوئے اگلے روز صبح چار بجے آنے کا حکم دیا میں نے اقرار میں سر ہلادیا اور پھر
میجر صاحب مجھے وہاں سے لے کر بازار گئے وہاں انہوں نے میرے لئے چند جوڑے لباس خریدے اور کچھ روپے مجھے دیتے ہوئے کہا کہ اب میں باقاعدہ اس ادارے کی ملازم ہوں اور جب مجھے تنخواہ ملے تو ان کی رقم لوٹادوں، یہ جملہ شائد انہوں نے میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر کہا تھا کیونکہ میں رقم لینے سے ہچکچا رہی تھی۔
اگلے روز میں حسب ہدایت صبح چار بجے جنرل اکبر کے پاس پہنچ گئی تو وہ تیار تھے اور مجھے پریڈ گراﺅنڈ میںلے گئے جہاں انسٹریکٹر سے انہوں نے میرا تعارف اپنی بیٹی کی حیثیت سے کراتے ہوئے کہا کہ یہ بہت تربیت یافتہ ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ یہ کمانڈو ایکشن سمیت دشمنوں سے نمٹنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہوجائے، ان کی بات سن کر انسٹریکٹر نے اثبات میں سر ہلایا اورپھر جنرل کے اشارے پر مجھے تربیت حاصل کرنے والے لڑکوں اور لڑکیوں میں شامل ہونے کو کہا جو ابتدائی پریڈ کررہے تھے میں جاکر ان میں شامل ہوگئی اور اس طرح میری تربیت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
ایک ماہ بعد میں اپنے انسٹریکٹر کے حکم پر جنرل اکبر کے سامنے حاضر ہوگئی تربیت کے دوران جو کچھ مجھے سکھایا گیا وہ تو پہلے سے ہی آتا تھا البتہ یہ ضرور ہے کہ کمانڈو ایکشن کے کچھ ایسے نئے طریقے بھی مجھے سکھائے گئے جو میں پہلے نہیں جانتی تھی۔ جنرل اکبر کچھ دیر خاموش رہے پھر مجھے دیکھ کر بولنے لگے، ” فرشتہ بیٹی تم جانتی ہو کہ آج کل ہمارا وطن بہت سی سازشوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور ہم کسی ایک دشمن سے نہیں بلکہ ایک ہی وقت میں کئی دشمنوں سے نبرد آزما ہیں اور ان میں دنیا کے ترقی یافتہ ملک بھی شامل ہیں ان میں سے ایک اسرائیل بھی ہے، اسرائیل نے چند سال قبل اپنی خفیہ ایجنسی موساد میں ایک نیا شعبہ قائم کیا ہے جس میں صرف لڑکیاں ہیں اس شعبے کا نام ”ییلو کیٹس سیکشن“ یعنی ”پیلی بلیوں کا شعبہ “ رکھا گیا ہے ۔ اس شعبے میں کام کرنے والی لڑکیاں ہر کام میں ماہر ہوتی ہیں، اس نے اس شعبے سے بہت سی لڑکیاں پاکستان میں بھیجی ہیں لیکن ہمیں ابھی ان کی شناخت نہیں ہے۔ ان سے مقابلے کے لئے ہم نے بھی ایک خصوصی سیل قائم کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ اس میں لڑکیاں بھی کام کریں لیکن ہمیں اب تک تم جیسی کوئی لڑکی نہیں ملی تھی، تم میں جو صلاحیتیں ہیں مجھے ان سے بہت امیدیں وابستہ ہیں، اب یہ بتاﺅ کہ کیا تم ہمارے لئے کام کروگی یہ ذہن میں رکھنا کہ تمہاری زندگی ہروقت خطرے میں رہے گی“.... اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوکر مجھے دیکھنے لگے، میں نے چند لمحے سوچ کر جواب دیا کہ ” سر میری جان تو ویسے بھی ہر وقت خطرے میں ہی رہتی ہے، شائد آپ کو میری زندگی کے بارے میں علم نہیں ہے“.... ” میںسب جانتا ہوں“ انہوں نے مےری بات کاٹ کر کہا اور پھر میری پیدائش سے لے کر میجر زبیر سے ملنے تک کی پوری کہانی سنادی پھر بولے ، ” میں نے تم سے جو سوال پوچھا ہے صرف اس کا جواب دو.... کیا تم ہمارے لئے کام کروگی؟“
میں نے کہا ، ” سر کام تو میں کروں گی لیکن کام اپنی مرضی سے کروں گی ہاں اگر میرے کام کا مثبت نتیجہ سامنے نہ آئے تو آپ کو حق ہوگا جو چاہے مجھے سزا دے دیں، آپ مجھے صرف کام بتائیں گے کہ کام کیا کرناہے ، بس، وہ کیسے کرنا ہے ، اس کے لئے میں کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہوں یہ سب میری اپنی مرضی پر منحصر ہوگا“۔ میری بات سن کر جنرل بولے، ” اب تم ایک ادارے کی ملازم ہو اور اس ادارے میں ڈسپلن سب سے اہم چیز ہے، ہمارے اوپر بہت سمجھ دار اور سوجھ بوجھ والے افسر بیٹھے ہیں ہم سب کو ان کی پالیسیوں پر عمل کرنا ہوتا ہے اور تم بھی ان کے احکام پر عمل کروگی“.... جنرل اکبر یہ بات کہہ کر میری شکل دیکھنے لگے میں نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد ذرا سخت لہجے میں کہا، ،”سوری سر، آپ جن افسروں کو سمجھ دار اور سوجھ بوجھ والا کہہ رہے ہیں میری نظر میں وہ یا تو احمق ہیں یا پھر غدار جو جان بوجھ کر دشمنوں کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کررہے ہیں ، اگر وہ اتنے ہی سمجھ دار ہیں تو کراچی میں اب تک کسی کو کیوں نہیں پکڑا، میں قتل کرنے والوں کی نہیں ان کی بات کررہی ہوں جو ان کے پیچھے پردے میں بیٹھ کر کام کررہے ہیں، بلوچستان میں اب تک کسی غیر ملکی ایجنٹ کو کیوں نہیں پکڑا گیا، معاف کیجئے جنرل صاحب میں صرف اپنی شرائط پر کام کروں گی اگر آپ کو منظور ہے تو ٹھیک ورنہ وطن کے دشمنوں کو تو میں ویسے بھی نہیں چھوڑوں گی چاہے آپ کے ساتھ مل کر کام کروں یا انفرادی طور پر“....جنرل اکبر کی آنکھوں میں فکر کے سائے منڈلانے لگے اور پھر وہ چند لمحے بعد بولے، ” چلو ٹھیک ہے تم جیسے چاہو کام کرنا لیکن مجھے رپورٹ ضروردیتی رہنا“،
”ضرورسر لیکن میری پھر ایک شرط ہے کہ میں آپ کو تو رپورٹ دیتی رہوں گی لیکن جب تک میرے ذمے کیا گیا کام مکمل نہ ہوجائے آپ میری رپورٹ کو اپنی ذات تک ہی رکھیں گے اور کسی کو نہیں بتائیں گے“
میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بولے، ” دیکھو ہمارے سینئیر جتنے بھی ہیں ان کے جذبہ حب الوطنی میں کوئی شک نہیں ہے مجھے ان کو بہرحال بتانا ہوگا کہ تم کہاں پر کیا کر رہی ہو“ .... چلیں سر ٹھیک ہے مجھے آپ کی یہ بات منظور ہے۔ اس کے بعد جنرل اکبر نے میرے بازو میں ایک بریسلٹ ڈالا اور گلے میں ایک لاکٹ، یہ خصوصی اہمیت کی چیزیں تھیں جن کے ذریعے وہ اپنے دفتر میں بیٹھے میری موجودگی کے مقام کو بھی دیکھ سکتے تھے اور میرے ساتھ ہونے والی گفتگو بھی سن سکتے تھے، انہوں نے مجھے یہ دونوں چیزیں ہمیشہ پہنے رہنے کی ہدایت دی اور پھر ایک چھوٹا سا ٹرانسمیٹر دیا جس کا استعمال مجھے تربیت کے دوران سکھا دیا گیا تھا، اور بہت سی دعاﺅں کے ساتھ مجھے یہ کہتے ہوئے رخصت کیا کہ میں اگلے روز ان سے ملوں تو وہ مجھے میرے آپریشن کے بارے میں ہدایات دیں گے۔ میں اٹھ کر گھر واپس آگئی۔
قسط 5
اگلے روز میںجنرل اکبر کے پاس پہنچی تو وہ اپنی نشست پر پریشان بیٹھے تھے، میں نے جاکر سلیوٹ کیا اور ان کے اشارے پر کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ چند لمحے خاموشی سے کچھ سوچتے رہے پھر بولے،
” فرشتہ پہلی بات تو یہ ہے کہ کل تم نے سینئر آفیسرز کے بارے میں جو گفتگو کی تھی وہ انہوں نے سن لی ہے ، یاد رکھو یہاں ہونے والی گفتگو ریکارڈ ہوجاتی ہے ، تمہاری بات پر انہیں غصہ نہیں ہے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ اگر تم خود کو اتنی ہی عقل مند سمجھتی ہو تو پہلا کیس تمہیں یہی سونپا جائے کہ بلوچستان میں غیر ملکی ایجنٹوں کا خاتمہ کرو تمہیں ان کو گرفتار نہیں بلکہ ختم کرنا ہے۔ کیا تم یہ کا کرسکوگی؟ جنرل نے مجھ سے سوالیہ انداز میں پوچھا ۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ” سر مجھے خوشی ہے کہ میرے سینئر مجھ پر اتنا اعتماد کرتے ہیں میں یقینا بلوچستان میں غیر ملکی ایجنٹوں کا صفایا کردوں گی لیکن اس کے لئے مجھے افغانستان جانا پڑے گا، آپ مجھے افغانستان پہنچانے کا انتظام کردیں“ .... وہ چونک کر بولے ، ” کیوں .... افغانستان کیوں؟ تمہیں تو بلوچستان کا مشن سونپا جارہا ہے“۔ ” سر اگر ملک میں سیلاب آجائے تو پہلے اس جگہ کو بند کیا جاتا ہے جہاں سے پانی کا اخراج ہوتا ہے شہروں میں آنے والے پانی پر توجہ نہیں دی جاتی، میں پہلے وہ راستہ بند کرنا چاہتی ہوں جہاں سے یہ لوگ ہمارے ملک میں داخل ہورہے ہیں جو اندر داخل ہوچکے ہیں واپسی کا راستہ بند ہونے پر وہ یا تو کارروائیاں کرنے کی بجاے جان بچاتے اور چھپتے چھپاتے پھریں گے۔ اس لئے میں پہلے افغانستان جانا چاہتی ہوں“۔ میں نے اپنا جملہ ختم کیا ہی تھا کہ ایک سادے کپڑوں میں سمارٹ سے صاحب اندر داخل ہوئے ، ان کے چہرے پر رعب اور دبدباتھا، ان کو دیکھ کر جنرل اکبر اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے میں بھی ان کی پیروی میں کھڑ ی ہوگئی۔ انہوں نے آکر میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے جنرل کو اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور بولے، ” ہم نے اس بیٹی کی باتیں سنی ہیں یہ بالکل درست کہہ رہی ہے اور یہ بات ہم بھی جانتے ہیں کہ بلوچستان میں امن قائم کرنا ہے تو اس کے لئے افغانستان میں کام کرنا ہوگا “ .... ” لیکن بیٹی“ انہوں نے میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا، ” تم افغانستان میں کچھ بھی نہیں کر سکو گی کیونکہ وہاں نیٹو فورسز موجود ہیں جو بظاہر تو ہماری دوست ہیں لیکن درپردہ وہی ہماری جڑیں کاٹنے میں لگی ہوئی ہیں وہ تمہیں وہاں دیکھتے ہی گولی ماردیں گے یا تم پر کوئی خود کش حملہ ہوجائے گا۔ ہمیں تمہاری کام کرنے کی شرائط منظور ہیں لیکن میں ایک باپ ہونے کے ناطے اپنی بیٹی کی حفاظت کی غرض سے جاننا چاہتا ہوں کہ تم نیٹو فورسز، را اور موساد کے نیٹ ورک کی موجودگی میں کیسے کام کروگی۔ یہ میں اس لئے نہیں پوچھ رہا کہ تم پر اعتماد نہیں ہے بلکہ اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ اگر اس میں تمہاری جان کو خطرہ ہو تو ہم اس کا تدارک بھی سوچ سکیں“۔آنے والے صاحب کون تھے ان کا کیا عہدہ تھا میں کچھ نہیں جانتی لیکن جنرل اکبر کے مودبانہ انداز میں کھڑے ہونے سے یہ تو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ کوئی سینیئر افسر ہیں اور انہوں نے جس انداز میں بات کی تھی مجھ سے انکار بھی نہیں ہوا اور میں نے کہا، ” سر یہ کام میں خود نہیں کروںگی بلکہ ملاعمر کے طالبان سے کراﺅں گی کیونکہ آپ کو علم ہے کہ میرے پاپا کی جاگیر آدھی پاکستان میں اور آدھی افغانستان میں ہے تو میں ان میں افغانستان کی بیٹی بن کر جاﺅں گی پشتو میری مادری زبان ہے اس لئے کوئی شک نہیں کرے گا میں ملا عمر کو ایسی خبر دوں گی کہ ان کو بھارتی قونصلیٹ کے دفاتر پر خود کش حملے کرنے ہی پڑیںگے اب اگر نیٹو فورسز اس میں مداخلت کرتی ہیں تو انہیں منہہ توڑ جواب بھی دیا جائے گا اور وہ جواب طالبان کی طرف سے ہوگا میری یا پاکستان کی طرف سے نہیں “ اتنا کہہ کر میں خاموش ہوگئی، وہ چند لمحے سوچتے رہے پھر اٹھ کر مجھے بھی اٹھنے کا اشارہ کیا جب میں کھڑی ہوئی تو انہوں نے مجھے سینے سے لگا کر بھینچتے ہوئے کہا، ” کاش تم میری حقیقی بیٹی ہوتیں صرف مجھے نہیں میرے تمام ساتھیوں اور محکمے کو تم پر اور تمہاری ذہانت پر فخر ہے، اور اگر یہ بات ظاہر کی جاسکتی تو پوری قوم تم پر فخر کرتی لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ بہت سے قومی ہیرو وطن کی تحفظ کے خاطرجامِ شہادت نوش کرلیتے ہیں اور ہم قوم کو بتا بھی نہیں سکتے کہ کون کیسے شہید ہوا.... بہرحال مجھے یقین ہے کہ انشاءاللہ تم اپنے مشن میں کامیاب رہوگی لیکن بیٹی ایک بات کا خیال رکھنا کہ کہیں بھی جذباتی نہ ہونا ، اگر کہیں ناکامی ہو تو اس کو بھی خوش دلی سے تسلیم کرنا اور یاد رکھنا تمہارے وطن کے لئے یہ مشن نہیں تمہاری جان زیادہ اہم ہے تم کو ابھی اور بہت بڑے بڑے کام کرنے ہیں، جن میں تمہارے وطن کی سلامتی مضمر ہے ، یہ کام تو تمہارے الفاظ سن کر تمہیں تفویض کردیا گیا ہے ورنہ تمہارا اصلی مشن اسرائیل کی ان زرد بلیوں کو تلاش کرکے ختم کرنا ہے جو یہاں تباہی پھیلانے کی سازش کررہی ہیں۔“ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئے اور میں نے کہا، ” پاپا آپ نے کہا کہ کاش میں آپ کی حقیقی بیٹی ہوتی تو پاپا میں تو نہ صرف آپ کی بلکہ ہر اس شخص کی حقیقی بیٹی ہوں جو وطن عزیز کے تحفظ کے لئے دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام کررہے ہیں اور اپنی جانوں پر کھیلنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں، اور سر آپ فکر نہ کریں میں انشاءاللہ نہ صرف اپنے مشن میں کامیاب ہوں گی بلکہ زندہ سلامت آپ کے سامنے آکر آپ کو رپورٹ بھی دوں گی“ اتنا کہہ کر میں نے ان صاحب کو سیلوٹ کیا اور انہوں نے ایک بار پھر مجھے سینے سے لگا کر میری پیشانی کو چوما اور جنرل اکبر سے کہا کہ اس کو تمام ضروری چیزیں دے دینا اور ان کے علاوہ اگر یہ خود کچھ طلب کرے تو وہ بھی فراہم کرنا“ اتنا کہہ کر وہ واپس چل دئیے اور کمرے میں جنرل اکبر اور میں تنہا رہ گئے۔ اب جنرل اکبر نے بولنا شروع کیا، ” یار فرشتہ تم بلا کی ذہین ہو اگر میں تمہیں وطن کی ذہین ترین بیٹی کہوں تو غلط نہ ہوگا یقین کرو بلوچستان کے حوالے سے جو تم نے کہا وہی ہماری بھی سوچ ہے لیکن افغانستان میں داخل ہوکر کارروائی کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے ہم صرف بلوچستان میں ہی کام کرہے ہیں لیکن وہی بات کہ جب تک آنے کا راستہ بند نہ کیا جائے کامیابی نہیں ہوسکتی۔ بہرحال میں تمہیں کچھ ضروری چیزیں دیتا ہوں جو ایک بیگ میں ہیں اس میں اسلحہ، کچھ ایمرجنسی میڈیسن، پانی کی بوتل، خشک خوراک وغیرہ شامل ہیں تم چیک کرلو اگر اور کچھ چاہئے تو تم بتادو،“.... اتنا کہہ کر انہوں نے بیل دی جب اردلی اندر آیا تو اس کو بیگ لانے کو کہا، تھوڑی دیر میں اردلی نے بیگ لاکر جنرل صاحب کی میز پر رکھ دیا، جنرل صاحب نے اس کو چائے لانے کو کہا اور مجھے بیگ چیک کرنے کا اشارہ کیا میں نے جنرل کے اشارے پر بیگ کھول کر دیکھنا شروع کیا، اس میں ضرورت کی تقریباً ہر چیز موجود تھی۔جنرل صاحب نے مجھ سے پوچھا، ” کچھ اور چاہئے تو بتادو“ .... میں نے کہا، ” نہیں سر آپ نے تو ایسی چیزیں بھی رکھ دی ہیں جن کے بارے میں میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔اب مجھے چند جینز کی پینٹوں اور ایک کیمو فلیج جیکٹ کا انتظام کرنا ہوگا کیونکہ وہاں موسم کافی سرد ہوگا“ یہ سن کر جنرل صاحب نے کہا، ” تم جینز اور جیکٹ کی فکر نہ کرو رات کو تمہاری رہائش پر پہنچ جائیں گی اور ہاں تم کب جانا چاہتی ہو؟“ .... یہ سن کر میں نے جواب دیا، ” سر یہاں سے کل صبح روانہ ہوں گی تاکہ رات کو اپنے علاقے سے افغان سرحد میں داخل ہوسکوں اور ہاں سر اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو جاتے ہوئے میں اپنے چچا کو ان کے ظلم کی سزا بھی دیتی جاﺅں انہوں نے میرے پاپاکی جائیداد پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے اور وہ جرائم پیشہ بھی ہیں کچھ عجب نہیں وہ وہاں بیٹھ کر افغانستان میں نیٹو فورسز کے لئے خدمات انجام دے رہے ہوں وہ پیسے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں“ .... انہوں نے جواب دیا ” نہیں پہلے تمہارا مشن اہم ہے ہاں واپسی پر تم جو چاہو سزا دینا اس وقت ہماری فوج بھی تمہاری مدد کے لئے وہاں پہنچ سکتی ہے۔ دوسری بات تم اپنے ساتھ کسی کو لے کر جاﺅگی میرا اشارہ گل پندرہ خان کی طرف ہے؟ “ .... جنرل صاحب کی بات پرچچا کو سزا دینے کے حوالے سے میں نے سرہلاکر رضامندی ظاہر کی اور دوسری بات کا جواب دیتے ہوئے کہا ”میں مشن میں اکیلی کام کرنا پسند کرتی ہوں گل پندرہ خان کو لے جانا سودمند نہیں ہوگا“ اس گفتگو کے دوران اردلی چائے رکھ گیا تھا لیکن ہم گفتگو میں ایسے محو تھے کہ چائے پینا بھول ہی گئے اب وہ ٹھنڈی ہوچکی تھی، میں نے کرسی سے اٹھ کر جنرل صاحب کو سیلوٹ کیا اور روم سے باہر نکل گئی۔
رات کو تقریباً دس بجے ایک شخص نے آکر ایک چھوٹا بیگ دیا میں نے کھول کر دیکھا اس میں چار جینز کی پینٹیں اور ایک جیکٹ تھی ، میں نے پہن کر دیکھی جینز بالکل فٹ تھی اور ویسی ہی تھی جیسی میں چاہتی تھی ان کے ساتھ ایک جوڑی شوز کی بھی تھی جس کے بارے میں بعد میں جنرل صاحب نے فون کر کے مجھے بنایا کہ ان شوز میں خوبی یہ ہے کہ اگر میں پہن کر ایڑی کو زور سے زمین پر ماروں تو شوز کی ٹو سے تین انچ سائز کا ایک چھوٹا سا خنجر باہر نکل آئے گا جو آپریشن کے دوران استعمال ہونے والے بلیڈ سے بھی زیادہ تیز ہے، میں نے شوز پہن کر اس کو آزما کر بھی دیکھ لیا تھا یہ بہت خوبصورت اور اہم تحفہ تھا، اس کے بعد میں لیٹ کر سو گئی تاکہ صبح کو فریش رہوں۔
صبح میری آنکھ ٹیلی فون کی گھنٹی سے کھلی میں نے رسیور اٹھاکر کان سے لگایا تو دوسری طرف جنرل صاحب تھے انہوںنے بتایا کہ سہ پہرتین بجے مجھے ایک گاڑی لینے آئے گی میں تیار رہوں اور اپنے سامان کے ساتھ اس گاڑی میں بیٹھ جاﺅں، میں نے او کے کہہ کر فون بند کردیا اور گل خان کو آواز دے کر کہا کہ چائے لے آئے اور خود باتھ روم میں جاکر دانت صاف کرنے لگی، جب باہر آئی تو دیکھا کہ وہ چائے کی بجائے ناشتہ لے آیا تھا میں نے ناشتہ کیا اور پھر کمپیوٹر آن کرکے سرچ انجن پر خفیہ زبانوں کی سٹڈی کرنے لگی۔ اسی طرح تین بج گئے اور گل خان نے آکر بتایا کہ کوئی گاڑی آئی ہے اور ڈرائیور مجھے بلارہا ہے، میں نے دونوں بیگ اٹھائے اور دونوں کندھوں پر لٹکاتے ہوئے باہر نکل آئی۔ میرے باہر آتے ہی ڈرائیور نے پچھلا دروازہ کھول دیا میں اندر بیٹھ گئی تو اس نے دروازہ بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی آگے بڑھادی۔
تھوڑی دیر بعد ہم ایئر پورٹ پر تھے وہاں جنرل صاحب پہلے سے موجود تھے وہ مجھے لے کر خصوصی دروازے سے ایپرن (جہاں جہاز کھڑا ہوتا ہے) پر لے گئے وہاں ایک ہیلی کاپٹر کھڑا تھا انہوں نے مجھے آخری ہدایات دیں اور دعائیں دیتے ہوئے ہیلی کاپٹر میں بٹھایا پھر تھوڑی دیر بعد ہیلی کاپٹر فضامیں بلند ہوگیا۔
ہم تقریباً آٹھ بجے باڑہ سے آگے اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے میرے پاپا کا علاقہ شروع ہوتا تھا میں نے کاپٹر پائلٹ سے وہیں لینڈ کرنے کو کہا تھوڑی دیر میں ہیلی کاپٹر لینڈ کرگیا اور میں اتر کر پائلٹ کو ہاتھ کے اشارے سے الوداع کہتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ اس وقت رات ہوچلی تھی اور ہوا میں خنکی تھی لیکن ایک تو میں نے جیکٹ پہنی ہوئی تھی دوسرے پیدل چل رہی تھی اس لئے پیشانی پر پسینہ آرہا تھا، میں اپنے علاقے سے بچتے ہوئے باہر ہی باہر چلتی افغانستان کی سرحد میں داخل ہوگئی، میرا بچپن وہاں گزرا تھا میں وہاں کے چپے چپے سے واقف تھی اس لئے ویران علاقوں سے ہوتی ایک ایسے گاﺅں میں پہنچی جہاں خچر فروخت ہوتے تھے وہاں میں نے بیگ سے رقم نکال کر ایک خچر خریدا، یہ رقم جنرل صاحب نے بیگ میں رکھی تھی جو کافی زیادہ تھی، بہرحال خچر خرید کر میں قندھار کی جانب چل دی جو ملا عمر کا علاقہ کہلاتا ہے۔
مجھے سفر کرتے دوسرا دن تھا میں رات کو کسی ویران جگہ پر آرام کرتی اور سارا دن سفر کرتی، میں چونکہ آبادی سے بچتے ہوئے ویران راستوں پر سفر کررہی تھی اس لئے قندھار پہنچنے میں کچھ زیادہ ہی وقت لگ گیا آخر کار پانچویں روز ابھی قندھار سے دور ہی تھی کہ چند مسلح افراد نے گھیرے میں لے لیا۔ میں نے جینز کی پینٹ، شرٹ اور اس پر جیکٹ پہنی ہوئی تھی پاﺅں میں جنرل کے دئیے ہوئے شوز تھے، سر پر کیپ تھی، اس حلئے میں میں لڑکی کی بجائے لڑکا لگتی تھی۔ ان میں سے ایک نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پوچھا کو میں کون ہوں تو میں نے پشتو میں روانی سے کہا کہ میں ضرغام خان کی بیٹی فرشتہ ہوں اور ملا عمر سے اپنے چچا شرجیل خان کی شکایت کرنے جارہی ہوں اگر تم لوگ ملاعمر کے آدمی ہو تو مجھے ان تک پہنچادو۔ میری بات سن کر وہ کچھ دیر کے لئے آپس میں مشورے کرنے لگے ظاہر ہے کہ ان کی پشتو میں سمجھ رہی تھی اس لئے میں نے ٹوک کر کہا کہ وہ بے فکر ہوکے مجھے باندھ کر گرفتار کرکے لے جائیں جب ملاعمر سے بات ہوجائے اور وہ حکم دیں تو مجھے کھولیں لیکن اس سے قبل کہ وہ کوئی جواب دیتے اچانک فضا میں ایک طیارہ نظر آیا جو ہماری جانب غوطہ لگا رہا تھا، میں نے پشتو میں چیخ کر ان سے کہا کہ بچو اور خود بھی زمین پر گرگئی، اس دوران وہ طیارہ گولیاں برساتا ہوا گزرگیا اور ایک بار پھر گھوم کر ہماری جانب آنے لگا لیکن اس دوران میں نے ان سب کے پتھروں اور چھوٹے ٹیلوں کے عقب میں پناہ لینے کا کہہ دیا تھا اور وہ پناہ لے چکے تھے بس میں ہی اکیلی رہ گئی تھی وہاں پر اصل میں میری کوشش تھی کہ پہلے وہ سب پناہ لے لیں تو آخر میں میں پناہ لوں لیکن مجھے وقت نہیں ملا اور وہ طیارہ دوبارہ غوطہ لگا کر گولیاں برساتا ہوا گزرنے لگا اچانک میرے منہہ سے کراہ نکل گئی مجھے ایسا محسوس ہوتا گویا میرے بازو میں کسی نے دہکتا ہوا انگارہ ڈال دیا ہے شاید مجھے گولی لگ گئی تھی پھر میرے ذہن پر غنودگی طاری ہونے لگی میں نے آنکھیں کھلی رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی میری آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا تھا۔
قسط 6
میں اس وقت نیم بے ہوشی کی کیفیت میں تھی مجھے نظر کچھ نہیں آرہا تھا لیکن محسوس سب کچھ کر رہی تھی مجھے معلوم تھا کہ جہاز اپنا میگزین خالی کرکے واپس لوٹ گیا ہے اب اس کی آواز نہیں آرہی تھی، مجھے یہ بھی احساس تھا کہ طالبان اپنی اپنی جگہوں سے باہر نکل آئے تھے اور میرے گرد کھڑے تھے پھر ان میں سے ایک نے میری جیکٹ اتار کے میرے بازو پرکس کر پٹی باندھی تاکہ خون کا اخراج رک سکے اس کے بعد ان میں سے ایک نے مجھے اپنے کاندھے پر اٹھایا اور ایک سمت میں لے چلے، وہ تھوڑی ہی دور گئے تھے ، ایک بلند ٹیلے کے عقب میں ایک ٹرک کھڑا تھا، اب مجھے کچھ کچھ دھندلا دھندلا سے دکھائی دینے لگا تھا۔
جس نے مجھے کاندھے پر اٹھا رکھا تھا اس نے ٹرک کی اگلی نشست پر مجھے بٹھایا اور پھر خود بھی میرے ساتھ بیٹھ کر میرے گلے کے گرد اپنا بازو حمائل کرلیا تاکہ میں گر نہ جاﺅں، باقی لوگ شائد ٹرک کے عقبی حصے میں سوار ہوگئے ہوں گے ، ایک شخص ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا اور پھر ٹرک سٹارٹ کرکے آگے بڑھادیا۔ اب میں تقریباً ہوش میں آگئی تھی میرے بازو میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں لیکن میں بچپن سے ہی سختیاں جھیلنے کی عادی تھی اس لئے اس ٹیس کو برداشت کرگئی اور بھرائی ہوئی آواز میں اس کو پکارا جس نے میرے گلے میں بازو حمائل کر رکھا تھا، ” بھائی پپپانی ہوگا؟“ میری بات سن کر اس نے ڈیش بورڈ کھول کر اس میں ایک بوتل نکال کر مجھے دیتے ہوئے کہا، ” خواہر یہاں ٹھنڈا پانی تو نہیں بہرحال پیاس بجھا سکتی ہو“.... میں نے بوتل لے کر منہہ سے لگائی اور کئی گھونٹ پی کر بوتل منہہ سے ہٹائی اور اس کو لوٹاتے ہوئے شکریہ ادا کیا، اس پر اس نے کہا، ” خواہر شرمندہ نہ کرو ابھی مجھے نہیں معلوم کہ تم ہماری دوست ہو یادشمن لیکن جو بھی اس وقت تم ہماری مہمان ہو اور دوسری بات تم نے ہمیں چھپانے کی کوشش میں خود گولی کھالی یہ ہم پرتمہارا احسان ہے اور ہم اپنے محسنوں کو کبھی تکلیف نہیں پہنچاتے۔ میں نے یہ بات سن کر صرف اتنا کہا کہ میں پٹھان کی بیٹی ہوں اور اپنی روایات جانتی ہوں، ساتھ ہی میں نے اپنے بیگوں کے بارے میں سوال کیا،تو اس نے اپنے عقب میں ایک کھڑکی کھول کر ٹرک میں بیٹھے ہوئے افراد سے میرے بیگ مانگے جو انہوں نے اسی کھڑکی سے اس کو دے دئیے، میں نے کپڑوں والے بیگ کو نیچے رکھنے کو کہا اور دوسرا بیگ اپنی گود میں رکھ کر کھولا اور اس میں سے دوا نکال کر اپنے منہہ بولے بھائی کو دیتے ہوئے کہا کہ بھائی اپنا نام تو بتادو اس پر اس نے کہا کہ ابھی صرف بھائی ہی کہو، میں نے کہا چلو پھر یہ دوا میرے زخم پر لگا دو اور ساتھ ہی بیگ میں سے ایک میڈکیٹڈ بینڈیج نکال کر دیتے ہوئے کہا کہ دوا لگانے کے بعد یہ پٹی باندھ دو۔ دوا خون روکنے کے لئے تھی اس میں صفت یہ تھی کہ وہ زخم پر لگ کر اس انداز سے جم جاتی تھی جیسے برف ہو اور خون کا اخراج فوری طور پر رک جاتاتھا۔ بھائی نے زخم پر سے میری آستین چھری سے کاٹی اور زخم پر دوا لگا کر پٹی باندھ دی، اس کے بعد میں درد کی دو گولیاں نکال کر کھائیں اور پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کرلیں۔ کچھ دیر بعد بھائی نے کہا، ”خواہر ہمیں تمہاری آنکھوں پر پٹی باندھنی پڑے گی کیونکہ ہم اپنے سردار کی منزل کسی کو بھی نہیں دکھا سکتے تم برا نہ ماننا“ میں نے سکون سے کہا ” اس میں اتنا شرما کر بولنے کی کیا ضرورت ہے میں خود بھی چاہتی ہوں کہ سردارکی منزل نہ دیکھوں کیونکہ دشمن مجھ سے بھی اگلواسکتے ہیں چلو جلدی سے پٹی سے باندھو“ .... میری بات پر وہ کچھ حیران اور کچھ خوش ہوا پھر میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ اس کے بعد تقریباً بیس منٹ تک ٹرک چلتا رہا، کبھی دائیں مڑتا کبھی بائیں میں سمجھ گئی کہ یہ نہیں چاہتے کہ میں راستے کا اندازہ بھی کرسکوں اس لئے بلا وجہ ٹرک کو ادھر ادھر موڑ رہے ہیں بہرحال بیس منٹ بعد ٹرک رک گیا اور بھائی نے مجھے ٹرک سے نیچے اتارا اور بازو سے سہارا دیتے ہوئے ایک کمرے میں لے گیا وہاں جاکر میری آنکھوں پر سے پٹی کھولی گئی، میں نے دیکھا ایک چھوٹا سا کمرہ تھا اس پر سادہ سا قالین پڑا تھا دیویوار کے ساتھ کشن رکھے تھے وہاں کچھ بزرگ افراد تشریف فرما تھے اور ایک طرف دیوار کے ساتھ ملا عمر بیٹھے تھے۔ ان کو شائد میرے بارے میں پہلے بتادیا گیا تھا، اس لئے انہوں نے مجھ سے پوچھا، ” تم کون ہو اورکس کی بیٹی ہو؟“ میں نے جواب دیا، ” میں فرشتہ ہوں اور آپ کے دوست ضرغام خان کی بیٹی ہوں“....تمہیں کیسے معلوم ہے کہ میں ضرغام خان کا دوست ہوں؟“ انہوں نے سوال کیا، تومیں نے جواب دیا، ”ایک روز بابا نے خود بتایا تھا کہ ان کا ایک دوست ملا عمر دشمنوں کی زدمیں ہے کاش وہ میرے پاس آجاتا تو میں اس کو تحفظ دے دیتا“ میری بات سن کروہ اپنی جگہ سے اٹھے اور میرے پاس آکر مجھے سینے سے لگاتے ہوئے کہا، ” بیٹی تم جانتی ہو تمہارا نام فرشتہ میںنے ہی رکھا تھا“ میں نے انکار میں سرہلاتے ہوئے کہا،” بابا نے یہ بات مجھے نہیں بتائی“ تو وہ بولے ہاں بیٹی تمہاری پیدائش سے پہلے ہی ضرغام کے پہاڑوں سے تانبا نکلنے لگا تو جب تم پیدا ہوئیں تو میں نے اس سے کہا کہ یہ فرشتہ¿ رحمت ہے اس کا نام فرشتہ رکھو اور اس نے رکھ دیا“.... اس کے بعد انہوں نے مجھے آرام کرنے کو کہا کیونکہ میں زخمی تھی میں نے بولنا چاہا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کرتے ہوئے کہا: ” بیٹی پہلے بازو کا زخم ٹھیک ہونے دو پھر جو کہو گی میں سنوں گا اور جتنی مدد طلب کروگی دوں گا سمجھ لو تم اپنے باپ کے پاس ہو“ یہ سن کر میں خاموش ہوگئی اور ان کی ہدایت پر ایک شخص مجھے ایک دوسرے کمرے میں لے آیا جہاں فرش پر بستر لگا تھا میں بستر پر لیٹ گئی تھوڑی دیر بعد وہی شخص جومجھے یہاں لایا تھا ایک حکیم کے ساتھ دوبارہ آیا اور میرے منع کرنے کے باوجود حکیم صاحب نے میرا زخم دیکھا اور کوئی معجون سالگا کر پٹی باندھتے ہوئے کہا، ”شکر کرو گولی بازو میں داخل نہیں ہوئی بس گوشت کو چیرتے ہوئے گزرگئی ہے تم کل تک ٹھیک ہوجاﺅ گی“۔ میں خاموش رہی اس کے بعد حکیم صاحب نے کوئی شربت سا مجھے پینے کو دیا میں نے پیا وہ انتہائی بدمزہ تھا میرے منہ کا ذائقہ خراب ہوگیا، میرا منہہ بنتے دیکھ کر انہوں نے مجھے قہوہ پینے کا مشورہ دیا اور ان کے اشارے پر وہی شخص جو ان کے لے کر آیا تھا میرے لئے قہوہ لے کرآیا،میں قہوہ پینے لگی اس سے منہہ کے ذائقے میں تو فرق پڑا لیکن ساتھ ہی مجھے اپنے جسم میں توانائی بھی محسوس ہونے لگی۔ اس کے ساتھ ہی حکیم صاحب مجھے آرام کرنے کا مشورہ دے کر چلے گئے اور میں قہوہ پی کر بستر پر لیٹ گئی اور اپنے منصوبے پر غور کرنے لگی پھر نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔
میری آنکھ اس وقت کھلی جب ایک خاتون مجھے جگارہی تھیں میں نے آنکھیں کھولیں تو خاتون نے مجھے واش روم جاکر منہہ ہاتھ دھونے کو کہا اور بتایا کہ ناشتہ تیار ہے میں ان کے کہنے پر اٹھ کر واش روم میں گئی حوائج ضروری سے فارغ ہوکر منہہ ہاتھ دھویا اور پھر کمرے میں آگئی جہاں میرے بستر پر ناشتہ رکھا ہوا تھا ناشتے میں قہوہ، نان اور کباب تھے ۔ مجھے اب بازو میں تکلیف محسوس نہیں ہورہی تھی ، میں نے آکر ڈٹ کر ناشتہ کیا کباب بہت لذیذ تھے ، ناشتے کے بعد ایک بار پھر حکیم صاحب تشریف لائے اور میرے بازو کا زخم دیکھا جس پر اب کھرنڈ آنے لگا تھا اور تکلیف بھی نہیں تھی، انہوں نے رات کو لگایا ہوا معجون کسی دوا سے دھویا اور ایک با ر پھر کسی قسم کا معجون لگا کر پٹی باندھتے ہوئے کہا، ” بیٹی اب تمہارا زخم ٹھیک ہے اب تمؒ کام کرسکتی ہو میں ملا صاحب کو بتادیتا ہوں ان کو تمہاری بہت فکر ہورہی ہے“ میں سرہلاکر خاموش ہوگئی اور وہ اپنا سامان افھاکر کمرے سے چلے گئے، تھوڑی دیر بعد پھر وہی خاتون کمرے میں آئیں جنہوں نے مجھے بیدار کیا تھا او ر بتایا کہ ملاعمر میرے منتظر ہیں، میں اٹھ کر ان کے ساتھ چل دی۔ملاعمر اسی عمارت کے ایک کمرے میں تشریف فرما تھے وہاں اور بھی کچھ لوگ بیٹھے تھے، میں نے جاکر سب کو ادب سے سلام کیا، انہوں نے میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے دعائیں دیں، پھر عمو ملا عمر نے ان سب سے میرا تعارف اس انداز سے کرایا،” اس چہرے کو اچھی طرح پہچان لو یہ میری بیٹی ہے، اس کا نام فرشتہ ہے جو میرا ہی رکھا ہوا ہے ویسے یہ میرے جگری دوست ضرغام خان کی بیٹی ہو جس کو ایک سازش کے تحت اس کی بیوی سمیت قتل کردیا گیا تھا“ .... یہ سن کر میں نے دخل دیتے ہوئے کہا، ” نہیں عمو جانی ان کو قتل نہیں کیا گیا تھا ان کا تو ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا گاڑی میں“ میری بات سن کر عمو ملا عمر بولے،”میری بھولی بیٹی تم اپنے چچاشہباز خان کی مکاری اور ذلالت کو نہیں جانتیں وہ کنگال ہوگیا تھا اسی نے تمہاری جائیداد پر قبضہ کرنے کے لئے اپنے بھائی اور بھابی کو ایک حادثہ میں قتل کرایا تھا میں اس وقت افغانستان میں بری طرح سے پھنساہوا تھا یہاں امریکہ نے حملہ کیا ہوا تھا اور بمباری جاری تھی مجھے شہباز خان کی سازش کی اطلاع تو ملی تھی اور میں نے ضرغام خان کو اطلاع دینے کی کوشش بھی کی تھی لیکن میرا اس سے رابطہ نہیں ہوسکااور مجھے تمام عمر اس کا افسوس رہے گا۔ یہ سن کرمیرا خون کھولنے لگا میرے چہرے کو دیکھتے ہوئے عمو ملا عمر نے صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ میں گھبراﺅں نہیں بہت جلد اس ظالم سے انتقام لیا جائے گا۔ پھر انہوں نے مجھ سے آنے کا سبب پوچھا تو میں نے اپنی گفتگو کچھ سوالوں سے شروع کی، میں نے پوچھا، ” عموجانی آپ امریکہ سے کیوں جنگ کررہے ہیں؟“.... نہ صرف انہوں نے بلکہ وہاں موجود تمام افراد نے چونک کر میری جانب دیکھا، عمو نے جواب دیا، ” اس لئے بیٹی کہ وہ ظالم ہے اس نے ہم پر حملہ کیا ہے“.... میں نے کہا اور پاکستان میں کیوں حملے کررہے ہیں آپ لوگ؟“ میرے سوال پر عمو ملا عمر نے سخت لہجے میں کہا، ” میں نے اس بارے میں سختی سے حکم دیا ہوا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس پر یا اس میں قومی یا فوجی تنصیبات پر، اس کی فوج یا پولیس پر کسی بھی قسم کا حملہ حرام ہے، اس سے بھارت اور اسرائیل کو فائدہ ہوگا“.... یہ سن کر میں نے کہا ، ” لیکن عمو جانی پاکستان میں خودکش حملے بھی ہورہے ہیں، بھتہ خوری کے ذریعے فنڈز بھی اکٹھے کئے جارہے ہیں قتل و غارت بھی جاری ہے اور یہ کام تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قبول کئے جارہے ہیں“.... اس پر ملا عمر جلال میں آگئے اور انہوں نے انہتائی سخت لہجے میں جواب دیا، ” ہم صرف طالبان ہیں ہم میں نہ کوئی تحریک ہے نہ ہم کسی مخصوص ملک سے منسوب ہیں پاکستان میں یہ کارروائیاں اسرائیل او ر بھارت کررہے ہیں اور نام طالبان کا استعمال کررہے ہیں اس سے ان کو دو فائدے ہیں ایک تو طالبان دنیا بھر میں دہشت گردی کے حوالے سے بدنام ہوں گے دوسرے پاکستان کی قوت کو نقصان پہنچایا جارہا ہے“۔ وہ جیسے ہی خاموش ہوئے تو میں نے کہا ،” عمو جانی میں یہی تو بتانے آئی ہوں کہ وہ لوگ آپ کے سائے تلے سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں، بھارتی قونصلیٹ کے دفاتر بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو یہاں لاکر دہشت گردی کی تربیت دیتے ہیں پھر اچھی خاصی رقم اور اسلحہ دے کر واپس بلوچستان بھیج دیتے ہیں ان میں سے کچھ بلوچستان میں اور کچھ کراچی میں کارروائیاں کررہے ہیں، میرے افغانستان آنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ان کی کارروائیاں ختم کرسکوں“.... ”مگر تم اکیلی یہ کام کیسے کرسکوگی؟“ ملاعمر نے پوچھا.... ” میں اکیلی کہاں ہوں آپ ہیں نامیرے ساتھ“ میں نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا ، میری بات پر وہ چند لمحے سوچتے رہے پھر بولے ، ” ہاں ہم تمہارے ساتھ ہیں.... بولو کیا کرنا ہے؟“ میں نے کہا ، ” عمو جانی آج رات میں بھارتی قونصیلٹ میں خود جاﺅں گی اور وہاں کوئی ایسی چیز تلاش کروں گی جس سے میرے ہاتھ یہ ثبوت لگ جائے کہ بھارت بلوچستان کے راستے پاکستان میں دراندازی کررہا ہے، اس کے بعد یہاں اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ جتنے بھارتی دفاتر ہیں ان سب کو اڑانا ہے“.... ملا عمر پھرکچھ منٹ سوچ میں گم رہے پھر بولے ، ” قونصلیٹ میں تم اکیلی نہیں جاﺅگی میرے آدمی تمہارے ساتھ ہوں گے“ میں نے یہ سن کر کہا، ” عمو جانی آپ کے آدمی اگر جائیں گے تو صرف قونصلیٹ کی عمارت تک اندر میں اکیلی ہی جاﺅں گی زیادہ لوگوں سے کام خراب ہوسکتاہے ظاہر ہے وہاںپہرہ بھی ہوگا، میں اکیلی توچھپ چھپاکر کسی نہ کسی طرح داخل ہوہی جاﺅں گی ، ہاں اگر مجھے وہاں کسی قسم کا خطرہ محسوس ہوا تو میں اشارہ کردوں گی پھر آپ کے آدمیوں کو اختیار ہوگا جو چاہے کارروائی کریں۔“ کچھ دیر بحث کے بعد آخر کار انہوں نے میری بات مان لی اور ہم نے طے کرلیا کہ رات کو ایک بجے ہم یہاں سے چلیں گے اور ڈیڑھ بجے قونصلیٹ کی ساتھ والے بنگلے پر قبضہ کرکے وہاں کے مکینوں کو یرغمال بنالیں گے اس بنگلے اور قونصلیٹ کی دیوار مشترک تھی میں اس دیوار سے قونصلیٹ میں داخل ہوجاﺅں گی، یہ پروگرام بنانے کے بعد میں واپس اپنے کمرے میں آگئی۔
............................
قسط 7
تھوڑی دیر بعد ہی ملا عمر میرے کمرے میں داخل ہوئے تو میں ان کے احترام میں کھڑی ہوگئی انہوں نے آکر اشارے سے مجھے بیٹھنے کو کہا اور خود بھی میرے قریب بیٹھ گئے، چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولے، ”وہاں سب کے سامنے میں کھل کر بات نہیں کرسکتاتھا اب کرتاہوں، تم پاکستان کو دشمنوں کی سازشوں سے پاک کرنا چاہتی ہو نا تو یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں صرف بھارت ہی در اندازی نہیں کررہا بلکہ امریکہ سمیت پورا مغرب اس میں شامل ہے بلوچستان میں نیٹو کے تمام ممبرملکوں کی ایجنسیاں کام کررہی ہیں ، اور ان کا یہ منصوبہ اب کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے۔ تم کو معلوم ہے میں نے اسامہ کوامریکہ کے حوالے کرنے سے کیوں انکار کیا تھا اور کیوں امریکہ کو حملے کی دعوت دی تھی؟ مجھے یہ خوش فہمی نہیں تھی کہ ہم امریکہ کو شکست دے دیں گے بلکہ مجھے یقین تھا کہ امریکہ ہمیں تباہ کردے گااور جتنی تباہی کی مجھے امید تھی امریکہ اتنی تباہی کربھی نہیں سکا، میرا مقصد یہ تھا کہ امریکہ کا افغانستان کی جنگ میں اتنا سرمایہ خرچ کرادوں کہ اس کی معیشت کی کمر ٹوٹ جائے اور وہ اسلامی ملکوں خاص طورپر لبنان، فلسطین، شام، ایران اور پاکستان کے خلاف جو منصوبے بنائے بیٹھا ہے اس پر عمل کرنے کے لئے اس کے پاس فنڈز نہ رہیں اور میں اپنی کوشش میں سو فیصد تو نہیں لیکن بہرحال کسی حد تک کامیاب رہا کہ اب امریکہ کو معاشی مشکلات کا سامنا ہوگیا ہے۔بیٹی اصل میں ان کا منصوبہ وسیع تر اسرائیل کا ہے، یہ منصوبہ اب کا نہیں یہ درست ہے کہ اسرائیل 1948 ءمیں قائم ہوا لیکن اس کا منصوبہ تو دو سو سال پہلے ہی ربیوں نے بنا لیا تھا، ربی سمجھتی ہو نا جیسے ہمارے دینی عالم اور مسیحیوں کے فاد ر ہوتے ہیں ایسے ہی یہودیوں کے ربی ہوتے ہیں ۔ ان کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے روس میں رہنے والے یہودیوں نے فلسطین میں جاکر زمینیں خریدنی شروع کیں کیونکہ وہاں ہیکل سلیمانی ہے جو یہودیوں کے لئے بہت مقدس ہے، دوسو سال کے بعد اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس کو سب سے پہلے تسلیم بھی روس نے ہی کیا تھا۔ اب اس کو وسیع کرنے کا منصوبہ ہے اور فلسطین، لبنان، شام کے علاوہ ایران اور پاکستان کے بلوچستان کا کچھ حصہ بھی اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے، یہ تمام سازشیں اسی ناپاک مقصد کو پورا کرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو اس کو تو صرف اتنی دلچسپی ہے کہ وہ ایشین ٹائیگر بننا چاہتا ہے اور اس کی راہ میں صرف پاکستان رکاوٹ ہے وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کو دفاعی لحاظ سے اتنا کمزور کردے کہ یہ بھارت کے سامنے سر نہ اٹھا سکے ، اسی مقصد کے لئے وہ پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ اب تم مجھے بتاﺅ کہ تم اکیلی کس طرح اتنی طاقتوں سے نمٹوگی، وہ اتنے طاقتور ہیں کہ تمہیں چیونٹی کی طرح مسل دیں گے اور کون سی گولی کس طرف آکر لگی تمہیں علم بھی نہیں ہوسکے گا؟“ ان کی بات سن کر میں بولی، ” عمو جانی پہلی بات تو یہ کہ میں اکیلی نہیں ہوں، دوسری بات میں خود تو سامنے آﺅں گی ہی نہیں جیسے یہاں آپ سے مدد مانگ رہی ہوں اور طالبان ہی سامنے آئیں گے ویسے ہی پاکستان میں بھی میں سامنے نہیں آﺅں گی بلکہ وہاںکوئی اور تنظیم یا ایجنسی سامنے آئے گی ، آپ میری فکر نہ کریں، میرا ارادہ نیک ہے اور انشاءاللہ کامیابی میرے قدم چومے گی“ ....”انشاءاللہ بیٹی میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں، بس پھر تم رات کو ایک بجے تیار رہنا“ اتنا کہہ کروہ اٹھ کر جانے لگے تو میں نے کہا، ” عمو جانی مجھے بھی آپ سے کچھ باتیں کرنی تھیں اگر وقت ملے تو پلیز مجھے کچھ وقت دینا آج ہی“ انہوں نے اقرار میں سر ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گئے اور میں بیٹھی حالات پر غور کرتی رہی کہ اتنی بڑی طاقتیں کتنی گھناﺅنی سازشیں کررہی ہیں ۔
دوپہر دو بجے کے قریب کھانا آیا تو عمو ملا عمر بھی ساتھ ہی تشریف لائے اور میرے پاس بیٹھ کر بولے، ” چلو آج میں اپنی بیٹی کے ساتھ ہی کھانا کھاﺅں گا اور تم نے جو باتیں کرنی ہیں وہ بھی کرلو“....کھانے کے دوران ہم گفتگو کرتے رہے میں نے ان سے کہا کہ،” مجھے ایک سائلنسر والا ریوالور چاہئے اگر ممکن ہو تو“ انہوں نے اقرار کرلیا کہ مل جائے گا، پھر میں نے کہا، ” عمو جانی مجھے ایک بات پریشان کر رہی ہے کہ اللہ تعالی کا مسلمانوں سے وعدہ ہے کہ مسلمان جہاد کے لئے قدم اٹھائیں اللہ کی نصرت ان کے ساتھ ہوگی، آپ نے امریکہ کے خلاف جہاد کا قدم اٹھایا تو اللہ کی نصرت آپ کو کیوں نہیں ملی، یہ تو ممکن نہیں کہ اللہ کا وعدہ پورا نہ ہو، پھر صرف ایک ہی بات رہ جاتی ہے“.... ” وہ کیا“ ملاعمر نے میری بات کاٹ کر پوچھا.... ”عمو جانی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اللہ کا وعدہ مسلمانوں کے ساتھ ہے، اور آپ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے جہاں اللہ کی نظر میں مسلمان ہوں، اور اس کی وجہ بھی سامنے ہے،“ .... ” کیا“ ملاعمر نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے پوچھا۔ ” عمو جانی قرآن کی تنزیل کا آغاز جس لفظ سے ہوا وہ ’اقرا‘ ہے یعنی پڑھو، اور علم کے حوالے سے احادیث بھی ہیں کہ ہر مردو زن پر علم حاصل کرنا واجب ہے، علم حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑے تو جاﺅ، علم مومن کی گم گشتہ میراث ہے جہاں سے بھی ملے حاصل کرو، اور حضور نے اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ علم کا شہر ہیں،“.... ”میں تمہاری بات سمجھ گیا ہوں بیٹی لیکن کافروں کا علم حاصل کرنا ضروری نہیں ہم میں سب مدرسوں کے تعلیم یافتہ ہیں، اور حافظ قرآن بھی ہیں، ہمارے پاس علم کی کمی نہیں ہے“....ان کی بات سن کر میں نے دھیمے لہجے میں کہا ”عمو جانی آپ کو غزوہ¿ بدریاد ہے؟“ ....”ہاں یاد ہے.... کیوں؟“ انہوں نے پوچھا۔ ” اس میں جو کفار جنگی قیدی بنائے گئے تھے ان کی رہائی کے لئے حضور نے کیا شرط عائد کی تھی.... یہ بھی یادہے؟“ .... ” کیا شرط تھی“ انہوں نے الٹا مجھ سے سوال کردیا۔ ” عموجانی شرط یہ تھی کہ ہر قیدی ایک ایک مسلمان کو تعلیم دے جو ایک مسلمان کو اپنا علم منتقل کردے گا اس کو رہا کردیا جائے گا، اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ ان کافروں نے مسلمانوں کو کیا قران، حدیث، فقہ، حرف و نحو وغیرہ کے درس دئیے ہوں گے؟ وہ تو مسلمان ہی نہیں تھے کافر تھے، ان میں کسی کے پاس صنم سازی کا علم ہوگا، کسی کے پاس سنگ تراشی کا،کسی کے پاس چوب کاری کا اورکسی کے پاس زراعت کا، کسی کے پاس جہاز سازی کا اورکسی کے پاس ہتھیار بنانے کا، میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر دینی علم ہی زندگی گزارنے کے لئے کافی ہوتا تو دینی علم کا استاد خود حضور پاک سے بہتر اورکون ہوسکتا ہے، لیکن آپ نے کافروں کو مسلمانوں کا استاد بنایا اس کا مطلب ہے کہ علم مسلمان یا کافر نہیں ہوتا علم صرف علم ہوتا ہے اور دوسری بات دینی علوم زندگی گزارنے کے لئے کافی نہیں ہیں قران و حدیث و فقہ و حرف و نحو و فلسفہ یہ فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے ہدایات ہیں، لیکن اسی میں اللہ نے دیگر علوم کی جانب بھی اشارہ کیا ہے،جہاں اللہ نے فرمایا کہ آسمان کو نجوم سے سجایاتو اس کا مطلب ہے کہ ستاروں کا علم حاصل کرو جہاں فرمایا یہ درخت جس سے لکڑی لے کر تم آگ جلاتے ہو تم اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں،اس کا مطلب ہے کہ زراعت کا علم حاصل کرو، جہاں فرمایا کہ پانیوں پر جہاز تم چلاتے ہویا ہم؟ اس کا مطلب ہے کہ جہاز سازی اور جہاز رانی کا علم حاصل کرو۔عمو جانی امام جعفر صادقؑ کو کچھ وقت ملا ان کے بہت سے شاگردوں میں سے میں صرف دو کا ذکرکرتی ہوں ایک نے دینی علم حاصل کیا وہ دینی لحاظ سے امت کے امام اور فقہ کے استاد بن گئے اور جنہوں نے سائنسی علم حاصل کیا یعنی جابر بن حیان، ان کے فارمولوں پر آج تک امریکہ تحقیقات کررہا ہے اور ترقی کررہا ہے۔ آپ مجھے صرف ایک بات بتادیں کہ آپ کے حافظین قرآن نے کوئی ایک سُوئی بھی ایجاد کی ہے؟ کوئی اسلحہ کو ئی سائنسی ایجاد کی ہے؟ آپ استعمال تو کافروں کی ایجادات کررہے ہیں اسلحہ بھی امریکی لے رہے ہیں اوراسی سے لڑرہے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ اللہ ان بندوں کومسلمان کہتا ہو جو کلمہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ جدید علوم بھی رکھتے ہوں، جو آپ کے پاس نہیں ہیں اور یہی آپ کی شکست کی وجہ بھی بنی ہو؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید ما¿خذالعلوم ہے لیکن جدید علوم قرآن میں استعاروں میں بیان کئے گئے ہیں اور قرآن سے جدید علوم حاصل کرنے کے لئے استعارہ فہمی کی ضرورت ہے جس سے مسلمان عاری ہیں بلکہ وہ تو جو قرآنی آیات پڑھتے ہیں ان کو بھی نہیں سمجھتے، آپ مجھے کوئی ایسا عالم قرآن بتادیں جو مقطعات قران کو سمجھتا ہو، آپ کوئی ایک بھی ایسا حافظ نہیں بتا سکتے جو ان کی توضیح کرسکے اگر ہم میں استعارہ فہمی نہیں ہے تو ہمیں جدید علوم جہاں سے بھی ملیں حاصل کرنے چاہئیں کیونکہ حدیث کے مطابق یہ مومن کی گم گشتہ میراث ہیں۔“ میں سانس لینے کو رکی تو ملاعمر نے بولنا شروع کیا، ” بیٹی مجھے خوشی ہے کہ میری بیٹی کافی عالمہ ہے اور دین کے ساتھ جدید علوم پر بھی دسترس رکھتی ہے لیکن یہ باتیں ان لوگوں کے سامنے کی جاسکتی ہیں جن کی ذہنی سطح اتنی بلندہو کہ ان کو سمجھ سکیں میں نے جب طالبان کی خدمت کی ذمہ داری سنبھالی تھی میں اس وقت بھی یہ باتیں جانتا تھا لیکن ایک تو جنگ کی وجہ سے ہمیں اتنا وقت نہیں ملا دوسرے میرے جو ساتھی میرے ایک اشارے پر جان نچھاور کرنے کو تیار تھے ان کی ذہنی سطح اتنی بلند نہیں تھی کہ ان کو یہ باتیں سمجھا سکتا اگر میں ان کے سامنے یہ باتیں کرتا تو وہ مجھے بھی امریکی ایجنٹ قرار دے کر قتل کرچکے ہوتے، تمہاری بات سو فیصد درست ہے لیکن میں نے تمہیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ میں نے امریکہ سے ٹکر کس مقصد کے تحت لی تھی میرا مقصد امریکی معیشت کا زوال تھا اور وہ میں نے حاصل کرلیا یہ تو تم مانتی ہونا؟ اور اس طرح فتح تو ہماری ہی ہوئی نا؟“ انہوں نے مجھ سے سوالیہ انداز میں پوچھا میں نے مسکراتے ہوئے کہا، ” عمو جانی میں آپ کے علم و فہم کی قائل ہوں اسی لئے تو آپ کے پاس آئی ہوں“.... اس کے بعد عمو جانی اٹھ گئے اور یہ کہتے ہوئے باہر نکل گئے کہ میں رات کو تیار رہوں مجھے سائلنسر والا ریوالور مل جائے گا۔ میں ایک بار اپنی سوچوں کے ساتھ کمرے میں تنہا رہ گئی، اچانک مجھے خیال آیا کہ جنرل اکبر نے جو ٹرانسمیٹر دیا تھا اس پر رابطہ کرکے اب تک کی رپورٹ دے دوں یہ سوچ کر میں نے بیگ سے ٹرانسمیٹر نکالا اور اس پر رابطہ قائم کیا لیکن درسری جانب سے رابطہ کاٹ دیا گیا، اس کے ساتھ ہی میرے بریس لیٹ میں ہلکی سی جھنجھناہٹ سی محسوس ہوئی میں نے دیکھا تو اس میں لگا ہوا ایک نگینہ بار بار روشن ہورہا تھا میں نے اس کو دبایا تو بریس لیٹ سے جنرل کی آواز ابھری، ” بیٹی یہ بریس لیٹ اور تمہارے گلے کا ہار ہمارے اپنے سیارے کے ذریعے کام کررہے ہیں جو ہم نے چین کی مدد سے فضا میں بھیجا ہے، اس لئے محفوظ ہیں جبکہ ٹرانسمیٹر کی لہریں کوئی بھی ملک کیچ کرسکتا ہے اس پر ہونے والی گفتگو راز نہیں رہے گی تم جو کررہی ہو ہم دیکھ بھی رہے ہیں اور تمہاری باتیں سن بھی رہے ہیں تم بہت اچھی جارہی ہو میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں.... اوور اینڈ آل“ اس کے ساتھ ہی آواز بھی بند ہوگئی اور نگینے کا جلنا اور بجھنا بھی ختم ہوگیا۔ اب میرے پاس رات تک فرصت تھی لہذا میں نے کچھ دیر سونے کا فیصلہ کیا اور بستر پر لیٹ گئی۔
قسط 8
رات کا کھانا کھانے کے بعد میں نہاکر فریش ہوئی اور جینز اور جیکٹ پہن کر تیار ہوگئی، ابھی ایک بجنے میں کافی وقت تھا اس لئے میں اپنی چالوں پر غور کرنے لگی میرا منصوبہ یہ تھا کہ جیسے امریکہ نے افغانستان میں مسلمانوں کو جہاد کے نام پر جھونک کر اپنا مفاد حاصل کیا تھا اسی طرح میں کسی اور قوت کو ان سے ٹکرا کر اپنا مفاد حاصل کروں لیکن بنیادی سوال یہ تھا کہ وہ قوت کون سی ہو، اسی پر غورکرتے ہوئے وقت کے گزرنے کااحساس ہی نہیں ہوا میں اس وقت چونکی جب ایک شخص نے آکر مجھے سائلنسر لگا ریوالور دیتے ہوئے چلنے کو کہامیں نے اپنا وہ بیگ اٹھایا جو دن میں آج رات کے لئے تیار کیا تھا اور اس کے ساتھ باہر نکلی جہاں ایک جیپ کھڑی تھی میں اس جیپ میں بیٹھ گئی اس میں پچھلی نشست پر چار لوگ اور بھی بیٹھے تھے۔ جیپ میں مجھے ڈرائیوکرنے والے صاحب نے بتایاکہ قونصلیٹ کی ساتھ والی عمارت پر قبضہ کرلیا گیا ہے وہ اب طالبان کے قبضے میں ہے اور اہل خانہ کو بے ہوش کرکے ایک کمرے میں بند کردیا گیا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ طالبان تیزی کے ساتھ کام کررہے تھے۔ ہم تقریباً آدھے گھنٹے بعد اپنی منزل پر پہنچے وہاں گیٹ پر چار پولیس اہلکار پہرہ دے رہے تھے انہوں نے ہماری گاڑی کو رُکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور نے جیپ روک لی میں نے فوری طورپر سائلنسر لگا ریوالور ہاتھ میں لے لیا اس پر ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ یہ پولیس نہیں ان کے ساتھی ہیں جو پولیس کی وردی میں ہیں یہاں پہلے بھی چار گارڈ پہرہ دے رہے تھے وہ اب باندھ کر ایک کمرے میں بند کردئیے گئے ہیں۔ گارڈ نے اندر جھانک کردیکھا اور پھر واپس جاکر گیٹ کھول دیا اور ہماری گاڑی بنگلے میں داخل ہوگئی اس وقت رات کاڈیڑھ بجا تھا۔
اندرداخل ہوکر جیپ پورچ میں رک گئی میں نے باہر نکل کر چاروں جانب کا جائزہ لیا مجھے بتایا گیا کہ بائیںہاتھ والی عمارت قونصلیٹ کادفتر ہے میں نے دیوار کی بلندی کا جائزہ لیا دیوار پر خاردار تار لگی تھی مجھے بتایا گیا کہ اس میں کرنٹ دوڑ رہا ہے لیکن مجھے اس کی فکر نہیں تھی کیونکہ دیوار سمیت تاروں کی بلندی اتنی تھی کہ میں آسانی کے ساتھ ہائی جمپ کامظاہرہ کرتے ہوئے دیوار پار کرسکتی تھی۔ میں چلتے ہوئے اس عمارت کے عقبی حصے میں آئی جہاں کافی وسیع صحن تھاجس میں خوبصورت باغیچہ بنایا گیا تھا۔میں نے اپنے ساتھ آنے والے طالبان کے انچارج سے کہا کہ اگر مجھے خطرہ محسوس ہوا تو میں کوئل کی آواز میں کُوک لگاﺅں گی اس آواز کو سن کر وہ جو سمجھ میں آئے کریں لیکن جب تک کوئل کی آوازنہ آئے وہ سکون سے میرا انتظار کریں۔ ان کو ہدایت دینے کے بعد میں نے بیگ کندھے سے لٹکایا چنڈ میٹر پیچھے ہٹی اور پھر بھاگتی ہوئی دیوار کی جانب گئی اور قریب جاکر فضا میں اچھلی اور دیوار کو عبور کرتی ہوئی دوسری جانب جاگری۔ پہلی کامیابی پر مجھے خوشی ہوئی لیکن ابھی خوشی منانے کا وقت نہیں تھا میں گرتے ہی رینگتے ہوئے سامنے بنی عمارت کی جانب بڑھی اور وہاں دیوار سے لگ کر کچھ دیر سُن گُن لیتی رہی لیکن اس طرف کوئی نہیں تھا۔ ابھی میں اٹھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ دوسری جانب سے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی میں دیوار کے ساتھ چپک کر لیٹ گئی۔ وہ کئی گارڈ تھے جو باتیں کرتے ہوئے نگرانی کرتے وہاں سے گزر گئے انہیں اتنا اطمینان تھا کہ انہوں نے دائیں بائیں بھی دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور میرے پاس سے باتیں کرتے ہوئے گزر گئے۔ ان کے جانے کے بعد میں اپنی جگہ سے اٹھی اور عمارت کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے لگی ایک جگہ گندے پانی کا پائپ تھا میں اس پائپ کے سہارے عمارت کے اوپر پہنچ گئی۔ اب میرے لئے نیچے جانا کچھ مشکل نہ تھا میں نے اوپر سے عمارت کے سامنے کی جانب نیچے دیکھا تو کافی سیکیورٹی نظر آئی عمارت کے اندر بھی مسلح گارڈ پھررہے تھے ، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ایک قونصلیٹ کی دفتر میں رات کے وقت اتنی سیکیورٹی کیوں ہے؟ بہرحال میں سیڑھیوں سے دبے قدموں نیچے اترنے لگی نیچے میں ایک کوری ڈور میں پہنچی جس میں دونوں طرف کمروں کے دروازے تھے، تمام دروازے مقفل تھے میںنے شیشوں میں سے جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی لیکن اندر اندھیرا تھا اس لئے کچھ نظر نہیں آیا، میں ایک ایک کرکے کمروں کو چیک کرتی چلی گئی وہ سب کے سب مقفل تھے لیکن ایک کمرے کا دروازہ کھلا محسوس ہوا وہاں سے باتوں کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو اندر پردہ پڑا ہوا تھا میں خاموشی سے دراوازے سے اندر داخل ہوکر پردے کے پیچھے چھپ گئی، اندر ایک میز کے گرد کرسیاں رکھی ہوئی تھیں ان پر چھ افراد بیٹھے تھے جن میں امریکی، اسرائیلی، بھارتی اور جرمن تھے، امریکی کہہ رہاتھا، ” اس وجہ سے ہماری سکیم کامیاب نہیں ہوسکی اور وہاں فرقہ واریت نہیں پھیل سکی لیکن ہم مایوس نہیں ہیں میں نے ہیڈ کوارٹر کو خبر دے دی تھی وہاں کوئی نیا پلان بنایا گیا ہے جو آج بتائیں گے“۔ یہ سن کر ایک اور بولا ، ” لیکن وہا ں اتنے مولویوں کو بھی قتل کیا گیا اور لوگوں کو بھی پھر بھی وہ آپس میں نہیں لڑے آخر کیوں نہیں لڑے اب تک تو وہاں خانہ جنگی شروع ہوجانی چاہئے تھی“۔ .... ”ہاں تم ٹھیک کہتے ہو لیکن ہم خود حیران ہیں کہ آخر ان میں اتنا صبر کہاں سے آگیا اصولی طور پر اب تک تو شیعہ سنی فساد ہوجانا چاہئے تھا“ .... یہ تمام گفتگو انگریزی زبان میں ہورہی تھی اتنے میں میز پر رکھے ٹرانسمیٹر سے آواز آنے لگی کوئی کال کررہا تھا ، ان میں سے ایک نے ٹرانسمیٹر آن کر کے کہا، ” یس چیف دس از ٹائیگرہیئر“ ....دوسری طرف سے ایک بھاری آواز ابھری، ” چیف از ہیئر“.... ” یس چیف، کوئی نیا منصوبہ بنالیا آپ نے یا ہم پرانے پر ہی عمل جاری رکھیں؟“.... ” پہلے یہ بتاﺅ کہ یہاں کون کون ہیں؟“ اسی آواز نے پوچھا، اس پر وہی شخص جو باتیں کررہا تھا بولا،” سر یہاں میرے علاوہ اسرائیل، بھارت، جرمن،برطانیہ اور فرانس کے نمائندے موجود ہیں اور یہ سب اس بات پر حیران ہیں کہ آخر پاکستانیوں کا خون اتنا ٹھنڈا کیوں ہوگیا کہ ہم نے مختلف فرقوں کے اتنے مولویوں اور افراد کو قتل کردیا لیکن بھر بھی وہ آپس میں نہیں لڑے“....” نہیں سنو اب پالیسی میں تھوڑی سی تبدیلی کرنی ہے“ بھاری آواز نے کہا، ” تم جو قتل کررہے ہو وہ کرتے رہو لیکن اسی ماہ کی بیس تاریخ کو گوادر سے امریکی اسلحہ افغانستان کے لئے روانہ کیا جائے گاتم ان کنٹینروں کو راستے میں لوٹ لو“.... ” لیکن سر اس سے کیا ہوگا یہاں افغانستان میں ہماری فوجوں کے پاس اسلحے کی کمی ہوجائے گی، تو وہ کیا کریں گی؟“....” تم ڈفر ہو پہلے پوری بات سنو، جو کنٹینر تم لوٹو گے ان میں کچھ بھی نہیں ہوگا خالی پیٹیاں ہوں گی تم خالی پیٹیاں لوٹ لینا ہم پاکستان حکومت سے اسلحہ لوٹ لئے جانے پر سخت جواب طلب کریں گے ، ادھر تم قتل عام میں اضافہ کردینا سڑکوں ، پارکوں، ساحل سمندر، کالجوں اور دفاتر میں گولیاں برساتے رہو ان دنوں میں پانچ دس ہزار افراد قتل کرادو بس پھر ہماری فوجیں پاکستان میں داخل ہوجائیں گی.... تم پورا پلان سمجھ گئے؟“ .... ” جی سر سمجھ گیا آپ بے فکر رہیں سب کچھ پروگرام کے مطابق ہی ہوگا“ یہ سن کر میرا خون کھول گیا میں نے سائلنسر لگا ریوالور نکالااور ایک ایک کے سر کا نشانہ لے کر گولیاں چلاتی رہی، میرا نشانہ سچا تھا چھ افراد کے لئے چھ گولیاں ہی کافی رہیں ان کے منہہ سے جو ہلکی ہلکی آوازیں نکلیںتو ٹرانسمیٹرپر دوسری جانب سے پوچھا گیا، ” کیا ہوا یہ آوازیں کیسی ہیں“ میں نے بھرائی ہوئی مردانہ آواز میں جواب دیا، ” کچھ نہیں قتل عام کا آغاز یہیں سے کردیا ہے“....”کیا مطلب تم کون ہو؟“ دوسری طرف سے پوچھا گیا میں نے عربوں جیسے لہجے میں انگریزی بولتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق بھارت سے ہے“.... اس نے فوراً جھوٹ پکڑتے ہوئے کہا،”بکواس نہ کرو تم اسرائیلی ہو تمہارا لہجہ بتارہا ہے“ میں نے گھبرائے ہوئے انداز میں کہا، ” نہیں میں اسرائیلی نہیں پاکستانی ہوں“ ....”شٹ اپ تم ہمیں بے وقوف سمجھتے ہو، اب مجھے تمہارے بارے میں سوچنا پڑے گا“ اس آواز نے کہا میرا مقصد پورا ہوگیا تھا میں نے آگے بڑھ کر ٹرانسمیٹر آف کیا اور وہاں کی تلاشی شروع کی، اب میری سمجھ میں آگیا تھا کہ اتنی سکیورٹی کیوں تھی، لیکن اب مجھے ان لاشوں کی بھی فکر نہیں تھی صبح کو جب بھارتی قونصلیٹ سے اسرائیلی،بھارتی،جرمنی،برطانوی،فرانسوی اور امریکی ایجنٹوں کی لاشیں برآمد ہوتیں تو پہلا سوال یہ ہوتا کہ یہ سب وہاں اکٹھے کیوں ہوئے تھے۔ تلاشی کے دوران ایک سیف سے مجھے کچھ کاغذات ملے وہ میں نے جیکٹ کی زپ کھول کر اندر ڈالے اور پھر کمرے پر الوداعی نظریں ڈالتی ہوئی باہر نکل آئی اور اوپر چل دی۔ چھت پر
آکر میںنے عقبی سمت میں نیچے جھانکامیدان صاف تھا میں اسی پائپ کے سہارے نیچے اترنے لگی لیکن جیسے ہی میرے قدم زمین سے لگے ساتھ ہی کسی نے میری کمر سے گن لگادی اور سوال کیا،” تم کون ہو اور کہاں سے آرہے ہو؟“ میں نے اچانک غصےلے لہجے میں کہا،” گدھے کے بچے تمہارا انچارج کہاں ہے تم یہ نگرانی کررہے ہومیں نے اوپر کہیں بھی کوئی گارڈ نہیں دیکھا“ یہ کہتے ہوئے میں گن کی پروا نہ کرتے ہوئے گھوم گئی اور اپنا رخ اس کی طرف کرلیاوہ اکیلا تھا اس نے گھبراکر جواب دیا،” میڈم انچارج تو آگے گیٹ پر ہیں اور انہوں نے اوپر کسی کی ڈیوٹی نہیں لگائی تھی“.... بکواس ہے سب گدھے ہیں کسی کو عقل نہیں تم کو معلوم ہے کہ اندر کتنی اہم شخصیات ہیں اگر کچھ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟ چلو تم یہیں سے پائپ کے ذریعے اوپر جاﺅ اور دائیں طرف کے حصے کی نگرانی کرو میں انچارج سے کہہ کر کچھ اور گارڈ اوپر بجھواتی ہوں“ میرا حکم سن کر وہ پائپ کی جانب بڑھا اسی وقت میری کھڑی ہتھیلی کاوار اس کی گردن پر پڑا اور اس کی گردن ایک جانب ڈھلک گئی وہ وہیں گر گیا۔ اب مجھے دیوار عبور کرنی تھی میں نے وہیں سے دیوار کی جانب بھاگنا شروع کیااور قریب جاکر فضا میں جمپ لگائی اور کامیابی کے ساتھ دوسری طرف جا گری میرے گرتے ہی وہاں موجود طالبان آگے بڑھے اور مجھ سے خیریت پوچھی میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہاکہ اب دوسری جانب قونصلیٹ سے پانچ سات عمارتوں کو چھوڑ کر تین چار بم دھماکے کر دو اور مجھے واپس لے چلو۔ طالبان کا انچارج مجھے جیپ تک پہنچا گیا اور ایک شخص کو مجھے واپس لے جانے کی ہدایت دی میں نے انچارج سے کہا”اب اس عمارت کا کوئی بھی مکین زندہ نہیں بچنا چاہئے ورنہ صبح کو وہ بتادیں گے کہ رات کو ان کی عمارت پر طالبان کا قبضہ تھا ان سب کو ختم کردو“ ” جی ٹھیک ہے کوئی نہیں بچے گا“ اس نے کہا اور ڈرائیور نے جیپ واپسی کے لئے چلادی۔
اپنی رہائش گاہ پر آکر میں نے کاغذات کھول کر دیکھے وہ انتہائی اہم کاغذات تھے ان میں پاکستان میں ان کے ایجنٹوں کے نام اور پنے تحریر تھے میں نے اسی وقت بریس لیٹ اپنے منہہ کے پاس کرکے کہا کہ پاکستان میں دشمنوں کے ایجنٹوں کے نام اور ایڈریس بول رہی ہوں آپ ان کے خلاف فوری کارروائی کریں یہ کہہ کر میں نے وہ ایڈریس اور نام بولنے شروع کردئیے، یہ ایک طویل فہرست تھی جس میں کراچی، کوئٹہ، اندرون سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور شمالی علاقوں میں رہنے والوں کی طویل فہرست تھی۔ مجھے نام اور ایڈریس بولتے ہوئے صبح ہوگئی۔ ایجنٹوں کے علاوہ ان کاغذات میں افغانستان کے حوالے سے بھی کچھ سازشوں کا ذکرتھاکچھ رپورٹیں تھیں وہ کاغذات میں الگ کردئیے اور ایجنٹوں کی فہرست والے کاغذات باتھ روم میں لے جاکر جلادئیے اور ان کی راکھ فلش میں بہاد ی دراصل وہ کاغذات کسی کے پاس سے بھی برآمد ہوجاتے تو قیامت آجاتی جن ملکوں کے اہم ایجنٹ مارے گئے تھے وہ اس کو تہہ و بالا کردیتے۔ افغانستان سے متعلقہ کاغذات میں نے اپنے بستر کے نیچے چھپادئیے کہ جب عمو ملا عمر تشریف لائیں تو ان کو دے دوں گی۔ اس کے بعد میں سکون سے بستر پر لیٹ گئی۔

Last edited by Abu Dujana; 02-07-2013 at 07:10 PM.
Reply With Quote
  #2  
Old 02-06-2013, 10:33 PM
Abu Dujana's Avatar
Abu Dujana Abu Dujana is offline
Help Desk
Last Achievements
 
Join Date: Dec 2011
Posts: 8,884
Points: 2,271,127, Level: 100
Points: 2,271,127, Level: 100 Points: 2,271,127, Level: 100 Points: 2,271,127, Level: 100
Activity: 7.2%
Activity: 7.2% Activity: 7.2% Activity: 7.2%
Thanks: 2,006
Thanked 745 Times in 463 Posts
Rep Power: 14
Abu Dujana will become famous soon enough

Awards Showcase

Default Re: Ghazanfar Kazmi

وعلیکم السلام۔۔
ہم۔۔غضنفر صاحب کو۔۔ آئی ٹی قلم پر۔۔ خوش آمدید کہتے ہیں۔۔
امید کرتے ہیں۔۔ کہ۔۔آپ سے۔۔ اردو ادب کی مد۔میں۔۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔۔
بہت خوشی۔۔ہوئی۔۔ایک ایسی قابل ہستی کو اپنے درمیان دیکھ کر۔۔
آپ اپنی کوئی بھی تحریر۔۔۔اس سیکشن میں۔۔۔ شیئر کرسکتے ہیں۔۔
http://www.itqalam.com/forumdisplay.php?f=316
شکریہ
__________________
اصلاح نفس کے چار اصول:
مشارطہ: اپنے نفس کے ساتھ شرط لگا نا کہ گناہ نہیں کروں گا۔
مراقبہ: کہ آیا گناہ تو نہیں کیا؟
محاسبہ: اپنا حساب کرے کہ کتنے گناہ کئے؟
مواخذہ: کہ نفس نے دن میں جو نافرمانیاں کیں ان کی سزا یہ دینا کہ اس پر عبادت کا بوجھ ڈال دے۔
Reply With Quote
  #3  
Old 02-09-2013, 12:34 PM
Alamgir Khan's Avatar
Alamgir Khan Alamgir Khan is offline
management
Last Achievements
 
Join Date: Sep 2012
Location: کراچی
Posts: 10,282
Points: 11,751,533, Level: 100
Points: 11,751,533, Level: 100 Points: 11,751,533, Level: 100 Points: 11,751,533, Level: 100
Activity: 99.2%
Activity: 99.2% Activity: 99.2% Activity: 99.2%
Thanks: 3,902
Thanked 3,208 Times in 2,215 Posts
Rep Power: 10
Alamgir Khan will become famous soon enough Alamgir Khan will become famous soon enough
Default Re: چار دیویوں کا قصہ ۔۔ از غضنفر

غضنفر کاظمی صاحب آپ کی تحریر پڑھ اچھی لگی
آپ کی مذید شئیرینگ کا انتظار رہے گا
__________________

To view links or images in signatures your post count must be 25 or greater. You currently have 0 posts.

Last edited by Alamgir Khan; 02-09-2013 at 02:57 PM.
Reply With Quote
  #4  
Old 02-09-2013, 12:38 PM
lovebank lovebank is offline
Lovebank
Last Achievements
 
Join Date: Oct 2010
Location: Lahore/Punjab/Pakistan
Posts: 16,189
Points: 30,969,351, Level: 100
Points: 30,969,351, Level: 100 Points: 30,969,351, Level: 100 Points: 30,969,351, Level: 100
Activity: 0%
Activity: 0% Activity: 0% Activity: 0%
Thanks: 2,337
Thanked 1,565 Times in 1,109 Posts
Rep Power: 25
lovebank will become famous soon enough lovebank will become famous soon enough

Awards Showcase

Default Re: چار دیویوں کا قصہ ۔۔ از غضنفر

کیا بات ہے بہت ہی دلچسپ کہانی ہے بہت ہی عمدہ لکھا ہے آپ کے قلم میں جادو ہے بہت بہترین لکھاری ہیں ہمارے ساتھ رہیں اور اس طرح کے ناول و تحریریں ہمارے ساتھ شیئر کریں بہت مشکور رہیں گے
__________________
To view links or images in signatures your post count must be 25 or greater. You currently have 0 posts.
width = 800 height = 100 allowScriptAccess ="never" type="application/x-shockwave-flash">
Reply With Quote
  #5  
Old 11-27-2013, 05:40 PM
Prince Ahmad's Avatar
Prince Ahmad Prince Ahmad is offline
Senior Member
Last Achievements
 
Join Date: Aug 2012
Age: 27
Posts: 2,356
Points: 1,687,429, Level: 100
Points: 1,687,429, Level: 100 Points: 1,687,429, Level: 100 Points: 1,687,429, Level: 100
Activity: 0%
Activity: 0% Activity: 0% Activity: 0%
Thanks: 4
Thanked 388 Times in 219 Posts
Rep Power: 8
Prince Ahmad is on a distinguished road
Default Re: چار دیویوں کا قصہ ۔۔ از غضنفر

Very nice thanx for shairing with us
Reply With Quote
Reply

Bookmarks


(View-All Members who have read this thread : 7
Abid M Shahi , Abu Dujana , Alamgir Khan , lovebank , mrkk , Prince Ahmad , qazilab
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
watch Youtube on VLC Media Player Irfan_Ahmed Tips & Tricks 23 01-06-2015 04:18 PM
How To Check Mobile Dead Set ڈیڈ سیٹ کیسے چیک کریں Bahadar Mobile Hardware 11 12-27-2014 12:31 PM
Quran Android Application قرآن اینڈرائیڈ ایپلیکیشن Bahadar Mobiles Tips & Tricks 9 04-11-2013 02:11 AM
’پیٹرسن کی ٹیم میں شمولیت ضروری‘ جیمس اینڈرسن *DON* Cricket 3 10-14-2012 05:40 AM


All times are GMT +5. The time now is 02:24 AM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.8
Copyright ©2000 - 2017, vBulletin Solutions, Inc.
User Alert System provided by Advanced User Tagging v3.1.0 (Lite) - vBulletin Mods & Addons Copyright © 2017 DragonByte Technologies Ltd.
Copyright © 2010 - 2017 ITQalam.com. All rights reserved,